لاہور میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں کا معاشی اور سیاسی ماڈل بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ غریب، مزدور اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں جب کہ حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اشتہارات تو چلاتے ہیں لیکن ریلیف دینے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فارم 45 کے سائے میں بننے والی "نمائشی سیاست" عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے اور خاندانی سیاست، جاگیرداری اور اشرافیہ کی اجارہ داری برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ نیا بلدیاتی ایکٹ شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرتا ہے۔ کونسلر اپنی ہی یونین کونسل کے چیئرمین کا انتخاب نہیں کر سکے گا اور تمام انتظامی و مالیاتی اختیارات بیوروکریسی کے پاس چلے جائیں گے۔ ان کے مطابق لاہور میں آئینی تقاضوں کے مطابق بااختیار میٹروپولیٹن گورنمنٹ قائم ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران آئین کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اسی لیے جماعت اسلامی اس کالے قانون کو عدالتوں اور سڑکوں دونوں پر چیلنج کرے گی۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ ان کے اختیارات اور حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔
حافظ نعیم نے الزام لگایا کہ پورے ملک میں بیوروکریسی اور جاگیردارانہ نظام عوام پر مسلط ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی بلدیاتی اختیارات کو صوبائی حکومتوں نے محدود کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی جماعتیں عوام کو طاقتور نہیں دیکھنا چاہتیں، سیاسی ورکرز کو غلام ابن غلام بنائے رکھا جاتا ہے اور فیصلے خاندانوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور وکلا کے ساتھ اتحاد بنا رہی ہے اور "بدل دو نظام تحریک" پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 21 دسمبر کو ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر کے باہر بڑے دھرنے ہوں گے، جب کہ اس سے پہلے مساجد، بازاروں، چوکوں اور گلی محلوں میں عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا تاکہ عوام یہ فیصلہ کر سکیں کہ نیا بلدیاتی قانون قبول ہے یا مسترد۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام منظم ہو جائیں تو انقلاب ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی سیاسی، عدالتی اور عوامی محاذ پر جدوجہد تیز کرے گی۔
واضح رہے کہ آج امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر پنجاب کے مختلف شہروں میں پنجاب کے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ساہیوال میں اس کی قیادت امیر ضلع طیب محمود بلوچ و دیگر ذمہ داران نے کی، جب کہ سیالکوٹ میں نائب امیر صوبہ پنجاب (وسطی) ذکراللہ مجاہد اور امیر ضلع امتیاز احمد بریار نے اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔
جڑانوالہ میں بھی اسی طرح کا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت امیر ضلع ڈاکٹر سعید احمد و دیگر ذمہ داران نے کی۔







