نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، یہ سب اقتدار اور پیسے کی جنگ لڑ رہے ہیں، ملک سے محبت کسی کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جھگڑا سیاستدانوں کے آپس کا ہے، اب برداشت کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگ سرنڈر کر چکے ہیں، اب ایکشن پر ڈبل ری ایکشن ہوگا، پیر سے ترقی کے نئے مراحل شروع ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے وہ کام کر دیا ہے جس کا حکومت کو علم نہیں تھا، اب مائنس ون کے سوا کوئی راستہ نہیں، مان لیں اور گھر جائیں۔
پروگرام میں موجود سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی تقسیم اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب نیشنل ڈائیلاگ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ ملک میں پولرائزیشن کم کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کا مل بیٹھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں راستہ ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔
مصطفیٰ کھوکھر نے مزید کہا کہ رانا ثنا اللہ باشعور سیاستدان ہیں، سب کو ایک میز پر آنا ہوگا۔ پی ٹی آئی جتنی سختیاں برداشت کر سکتی تھی کر چکی ہے، اب مزید کیا کریں گے؟
مائنس ون نہیں تو پی ٹی آئی پوری مائنس، اب ایک انچ بھی برداشت نہیں کیا جائےگا، رگڑ دیں گے: فیصل واوڈاhttps://t.co/djnQQrQrVW
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) December 7, 2025
ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے سیاستدانوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ بحال کر دیا جائے تو ڈائیلاگ آگے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست سے کسی کو مائنس کرنا عوام کا اختیار ہے، جب ریاست وقت سے پہلے کسی کو فارغ کرتی ہے تو عوام اُس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، یہی نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا جس کے بعد ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اُبھرا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ریاست پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں، ایک شخص اپنی خواہشات کی بنیاد پر میں نہیں تو کچھ نہیں کا بیانیہ بنا رہا ہے۔
اسی تناظر میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ پی ٹی آئی کو نہ جیل ملاقات کی اجازت ہوگی اور نہ ہی جلسے جلوس کی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مفاہمت کا موقع کھو دیا ہے، اب کسی انتشاری یا شدت پسند سوچ والے سے بات چیت نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بات کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں کریں اور اگر معذرت کرنی ہے تو اپنے لیڈر کے گندے بیانات پر شرمندگی کا اظہار کریں۔






