اپریل 4, 2025 12:25 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

میانمار میں زلزلہ فوجی حکومت کے لیے سود مند، عالمی شراکت داریوں کے دروازے کھل گئے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

میانمار کی حالیہ تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز قدرتی آفت نے حکمران جنرل مِن آنگ ہلائنگ کی پوزیشن کو مضبوط کر دیا ہے۔ اس تباہی نے سفارتی دروازے کھول دیے ہیں جو چار سال قبل اس وقت بند ہو گئے تھے جب ان کی فوجی حکومت نے ایک منتخب حکومت کو برطرف کر کے خانہ جنگی کو ہوا دی تھی۔

جمعہ کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 2,900 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے چند دن قبل ہی جنرل مِن آنگ ہلائنگ تھائی لینڈ میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نایاب غیر ملکی دورے کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ ان کے معاونین دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں کا انتظام کرنے میں مصروف تھے۔

یہ واضح نہیں کہ وہ اس ہفتے بینکاک میں ہونے والے “بمسٹیک” اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں، لیکن یہ قدرتی آفت انہیں عالمی تنہائی سے نکالنے کا سبب بنی ہے۔ بیشتر عالمی رہنماؤں نے 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار کی حکومت سے تعلقات محدود کر رکھے تھے، کیونکہ اس بغاوت نے 35 لاکھ افراد کو بے گھر کر دیا اور ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا تھا۔

سنگاپور میں مقیم تجزیہ کار انگشومن چودھری کا کہنا ہے کہ “جنتا (فوجی حکومت) جانتی ہے کہ بھارت، چین اور روس جیسے خطے کے بااثر ممالک میانمار میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اس موقعے کا فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ “علاقائی دارالحکومتوں سے براہ راست اور عوامی سطح پر روابط قائم کر کے فوجی حکومت خود کو میانمار کے مرکزی حکومتی ادارے کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔”

جنتا کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی فون کالز کا جواب نہیں دیا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران، مِن آنگ ہلائنگ نے چینی صدر شی جن پنگ، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے بات چیت کی، جس کے نتیجے میں عالمی امداد کی ایک نئی لہر میانمار پہنچی۔

چند ہفتے قبل، فوجی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ دسمبر میں عام انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن اب اس شدید زلزلے نے ان کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کریں۔

2021 کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں فوجی حکومت کو کئی محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے مِن آنگ ہلائنگ پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ چین جیسے اہم اتحادیوں نے ان کی حکومت کی حمایت جاری رکھی، حتیٰ کہ بیجنگ نے مخالف مسلح گروہوں پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ تاہم، چین نے انہیں مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔

گزشتہ نومبر میں جب وہ بغاوت کے بعد پہلی بار چین کے دورے پر گئے، تو انہیں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا موقع نہیں ملا۔ اس کے برعکس، پچھلے ماہ روس کے سرکاری دورے کے دوران، انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے تفصیلی ملاقات کی، جو 2021 کی بغاوت کے بعد ان کے اولین عالمی حامیوں میں شامل تھے۔

ینگون میں تعینات ایک سفارتی ذرائع نے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ وہ اس وقت اپنی خواہش سے بھی زیادہ کچھ حاصل کر چکے ہیں۔” ذرائع کے مطابق “وہ دوبارہ سفارتی دائرے میں واپس آ گئے ہیں اور انہیں ایک نشست مل گئی ہے۔”

تاہم، ایک دوسرے سفارتی ذرائع نے کہا کہ فوجی حکومت اس بحران سے جتنا ہو سکے فائدہ اٹھا رہی ہے اور عام شہریوں اور حزب اختلاف کے گروہوں کو امداد سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس