اختیار ولی نے بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر مسلسل احتجاج نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور اس صورتحال میں حکومت کو سیکیورٹی و انتظامی اقدامات پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔

اختیار ولی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے چاہتے ہیں قیدی کو کسی اور صوبے میں منتقل کیا جائے، یہ لوگ ملکی وقار اور ترقی پر آئے روز حملہ آور ہو رہے ہیں۔ احتجاج کے نام پر فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں قیدی کو اڈیالہ سے منتقل کردیا جائے اور حکومت بھی سنجیدگی سے اس پر غور کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا منشیات کے اسمگلروں سے گٹھ جوڑ ہے ، وزیراعلیٰ کی پرفارمنس زیرو نہیں مائنس ہے۔

اختیار ولی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے رشتے دار منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور یہ سرپرستی کرتے ہیں۔

دھیان رہے کہ منگل کی دوپہر علیمہ خان، نورین خان، عظمیٰ خان اور پی ٹی آئی رہنما عمران خان سے ملاقات کی غرض سے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے۔ جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہ دی تو عمران خان کی بہنوں نے فوری طور پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا۔ دھرنے کے آغاز پر کارکنوں کی تعداد قابل ذکر تھی اور احتجاج کا مقام فیکٹری ناکہ کے قریب تھا۔

پولیس اور علیمہ خان کے درمیان تین مرتبہ مذاکرات ہوئے۔ پولیس حکام نے واضح طور پر بتایا کہ ملاقات ممکن نہیں اس لیے دھرنا ختم کر دیا جائے۔ مذاکرات کے باوجود مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہے۔

اسی دوران پولیس نے وہاں موجود کئی گاڑیوں کو قبضے میں لے لیا، جن کے بارے میں پولیس کا دعوی تھا کہ وہ مختلف خیبر پختونخوا محکموں کی سرکاری گاڑیاں ہیں۔ بعد میں علیمہ خان کے مطالبے پر ان گاڑیوں اور ڈرائیوروں کو رہا بھی کر دیا گیا مگر دھرنا برقرار رہا۔

شام ہوتے ہی موسم زیادہ سرد ہوتا گیا، چونکہ مظاہرین کھلے آسمان تلے موجود تھے اس لیے شرکا نے سردی کم کرنے کے لیے جھاڑیوں کو آگ لگا کر گرمائش پیدا کرنے کی کوشش کی۔

ادھر ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے گرد دو کلومیٹر کے علاقے میں ہوٹلوں اور مارکیٹوں کو بند کروا دیا گیا، جس سے کھانے پینے کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن گئی۔ مقامی آبادی اور ارد گرد کے علاقوں سے پی ٹی آئی کارکن دھرنے والوں تک کھانا پہنچاتے رہے۔

رات کا وقت بڑھنے کے ساتھ شرکا کی تعداد میں کمی آنے لگی۔ پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی کی باتیں سامنے آنے سے کئی کارکن وہاں سے واپس چلے گئے۔ تاہم عمران خان کی تینوں بہنیں اور کچھ کارکن آخری وقت تک موجود رہے۔

پی ٹی آئی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پولیس آپریشن کی ویڈیوز جاری کیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس رات کے اندھیرے میں واٹر کینن کا استعمال کر رہی ہے اور شرکا پانی کے پریشر سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ علیمہ خان ویڈیو میں اپنے ساتھیوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ گھبرائیں نہیں یہ صرف پانی ہے۔

رات دو بجے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے باضابطہ طور پر واٹر کینن کا استعمال شروع کیا۔ پانی کے طاقتور پریشر سے کئی افراد نیچے گر گئے اور انہیں معمولی چوٹیں آئیں۔

پولیس کے مطابق لاٹھی چارج نہیں کیا گیا۔ واٹر کینن کے مسلسل استعمال سے شرکا ایک کلومیٹر پیچھے ہٹتے ہوئے منتشر ہو گئے اور رات تقریباً ڈھائی بجے دھرنا مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

پی ٹی آئی نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کے اہلِ خانہ کو ملاقات سے روکا گیا اور سرد رات میں خواتین پر پانی پھینک کر ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

دوسری جانب پولیس حکام مؤقف رکھتے ہیں کہ ملاقات ممکن نہیں تھی اور اس بارے میں کئی بار وضاحت کر دی گئی تھی۔ واپس جاتے ہوئے عمران خان کی بہنوں نے کہا کہ وہ اگلے منگل کو دوبارہ اپنے بھائی سے ملاقات کی کوشش کے لیے آئیں گی۔