پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ عوام عمران خان سے دور ہو جائیں گے تو ایسا ممکن نہیں۔ آج بھی 70 فیصد لوگ خان صاحب کے ساتھ ہیں۔ ہم نے آئین و قانون کے خلاف کوئی عمل نہیں کیا۔ عمران خان کی ملاقاتیں عدالتی احکامات کے مطابق ہونی چاہئیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان سے ملاقاتیں روکنے کی وجہ ٹوئیٹس کو قرار دیا جا رہا ہے، لیکن بشریٰ بی بی سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی جن کا کوئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہی نہیں؟ حکومت ایک نئی سطح پر گر گئی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مینڈیٹ چوری کے بعد بھی پی ٹی آئی نے احتجاجی دھرنے نہیں دیے بلکہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہا، لیکن حکومت ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ ہم پارلیمنٹ میں بات کرنا چاہتے تھے، ہماری تمام ڈیمانڈز آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔

اس موقع پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پی ٹی آئی دھرنے پر طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے اور تمام مقدمات میرٹ پر سنے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اپنے خاندان اور سیاسی ساتھیوں سے ملاقاتیں فوری بحال کی جائیں، کیونکہ یہ ان کا قانونی حق ہے۔ اسد قیصر نے موجودہ حکومت کو ’فاشسٹ حکومت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئین و قانون کو نہیں مانتی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر منگل کی رات احتجاجی دھرنا، کیا کچھ ہوتا رہا؟

اسد قیصر نے اعلان کیا کہ 20 اور 21 دسمبر کو پی ٹی آئی قومی کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، بار کونسلز، سول سوسائٹی اور میڈیا کو مدعو کیا جائے گا۔ اس کانفرنس میں ایک قومی ایجنڈا پیش کیا جائے گا اور ہم تمام جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا عمران خان کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے حوالے سے خدشات بے بنیاد ہیں۔ ایسے اقدامات ملک کو انارکی کی طرف دھکیل دیں گے۔ آئین شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔