میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج ایک ایسے شخص کو سزا سنائی گئی ہے جس نے ریڈ لائن عبور کی تھی، قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہوتا۔

عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ فیض حمید کو اپنے دفاع میں دلائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ گواہان پیش کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ تمام گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد انصاف پر مبنی فیصلہ سامنے آیا۔ ریڈ لائن کراس کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے، یہی اصول آج بھی لاگو ہوا ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فیض حمید نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور انہیں تمام الزامات میں قصوروار پایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹاپ سٹی کیس میں بھی سزا سنائی گئی ہے، جب کہ سیاسی معاملات میں مزید تحقیقات جاری رہیں گی۔ فوج میں خود احتسابی کا عمل بہت مضبوط ہے اور آج اس کی ایک عملی مثال سب نے دیکھ لی۔

یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنا دی گئی

عطاء اللہ تارڑ نے انکشاف کیا کہ فیض حمید نہ صرف اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے رہے بلکہ وہ پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر بھی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج آنے والا فیصلہ حق اور سچ کی فتح ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ریاستی ادارے اپنے اندر بھی بلا امتیاز احتساب کی صلاحیت رکھتے ہیں۔