ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ افغان قیادت اپنی سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے تحریری یقین دہانی دے۔ ترجمان نے کابل میں علمائے کرام کے حالیہ اجلاس اور مشترکہ قرارداد کو ’’مثبت پیش رفت‘‘ قرار دیا، تاہم یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں کیے گئے وعدے عملی نتائج نہیں دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات اور ثالثی کے دوران بھی افغان حکام سے تحریری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا اور یہ ضرورت آج بھی موجود ہے۔ ٹی ٹی پی، ’’فتنہ الخوارج‘‘ اور ’’فتنہ ہند‘‘ جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور انڈیا ان عناصر کو فعال تعاون فراہم کر رہا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس انڈین مداخلت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں، جن میں کلبھوشن یادیو اور جعفر ایکسپریس حملہ نمایاں مثالیں ہیں۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انڈین مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ماہرینِ انسانی حقوق اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جن میں پھیلگام حملے کے بعد 2,800 افراد کی بلاجواز گرفتاریاں شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے ’’حقِ خودارادیت‘‘ کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

پریس بریفنگ میں انہوں نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کے دو روزہ دورۂ اسلام آباد، دفاعی تعاون اور غزہ کی صورتحال پر بات چیت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی استحکام فورس میں شرکت ہر ملک کا ’’خود مختار فیصلہ‘‘ ہے اور پاکستان نے اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے انسانی بنیادوں پر افغانستان کے لیے امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اجازت دی ہے، اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

انہوں نے سارک عمل کو انڈیا کی جانب سے روکنے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں ترقی، روابط اور خوشحالی کے ہر اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔

برطانیہ سے بعض افراد کی حوالگی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک میں ابھی تک کوئی ’’باقاعدہ معاہدہ‘‘ موجود نہیں، تاہم کیسز کو ’’کیس ٹو کیس‘‘ بنیاد پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ترجمان نے انڈین وزیر خارجہ کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2025 کے تنازع نے ثابت کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار اور ثابت قدم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈین قیادت پاکستان کے اداروں کو بدنام کرکے اپنی خطے میں بدامنی پھیلانے والی کارروائیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہونے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور ملک کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔