سر مارک رولی نے یہ ردِعمل اس وقت دیا جب ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ لندن میں جرائم کی شرح پاگل پن کی حد تک بڑھ چکی ہے اور پولیس دارالحکومت کے بعض علاقوں میں گشت کرنے سے گریز کرتی ہے۔
ایل بی سی ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں میٹ پولیس چیف نے کہاکہ امریکہ سے لندن کے متعلق جو تبصرے آ رہے ہیں وہ مکمل بکواس ہیں۔ لندن کو تباہ شدہ شہر کے طور پر پیش کرنے کا رجحان جو کئی بار سیاسی محرکات رکھتا ہے اسے چیلنج کرنا ضروری ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فورس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور لندن والوں کے لیے بہتر نتائج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ درست ہے کہ کچھ جرائم کے مسائل موجود ہیں، مگر ہم نے کمی لانے کے حوالے سے جو پیشرفت کی ہے اس پر فخر ہے۔ یہ مکمل نہیں لیکن بہت اہم ہے۔
واضح رہے کہ نومبر میں جی بی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جو طویل عرصے سے لندن کے میئر صادق خان کے ناقد ہیں نے کہا تھا کہ لندن میں لوگ گدی میں یا اس سے بھی بدتر جگہوں پر چھرا مارے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ اُن کی والدہ لندن سے محبت کرتی تھیں مگر آج کا لندن مختلف ہے، لوگ اب دبے ہوئے ہیں، یہ سب پاگل پن ہے۔
ٹرمپ نے صادق خان کو آفت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ میئر جرم کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ لندن اور پیرس کے کچھ علاقوں میں پولیس جانا ہی نہیں چاہتی۔
میٹروپولیٹن پولیس سربراہ نے ان تمام دعوؤں کو بالکل غلط قرار دیا اور کہا کہ لندن کا کوئی حصہ ایسا نہیں جسے پولیس نوگو ایریا سمجھتی ہو۔
انہوں نے امریکہ کے مقابلے میں لندن کی جرائم کی صورتحال کا تقابلی تجزیہ بھی پیش کیا۔
ان کا کہنا تھاکہ لندن میں قتل کی شرح امریکہ کی ہر ریاست سے کم ہے۔ امریکہ کے تمام بڑے شہروں سے کم ہے۔ نیویارک میں قتل کی شرح فی کس لندن سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے تازہ الزامات پر برطانیہ میں سیاسی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ سر کیئر اسٹارمر نے واضح کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات غلط ہیں۔
لبرل ڈیموکریٹس کے رہنما سر ایڈ ڈیوی نے کہا کہ وزیراعظم کو امریکی صدر کے خلاف زیادہ مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ ٹرمپ نے خود کو مکمل طور پر ناقابلِ اعتبار اتحادی ثابت کیا ہے۔






