غیرملکی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پروگرام میں صحافی لورا کونسبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں یویٹ کوپر سے سوال کیا گیا کہ کیا برطانیہ اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو رہا ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بہت سے معاملات پر مل کر کام کر رہے ہیں اور آئندہ بھی تعاون جاری رکھیں گے، تاہم برطانیہ اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر طے کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کے مفادات کے مطابق فیصلے کریں، لیکن برطانوی حکومت کا فرض ہے کہ وہ برطانیہ کے مفادات کو ترجیح دے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ برطانیہ بغیر سوال کیے ہر معاملے میں امریکا کی حمایت کرے یا اپنی خارجہ پالیسی دوسرے ممالک کے حوالے کر دے۔
خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ایران سے متعلق مؤقف پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ امریکا کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اس تنقید کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر برطانیہ کے مفادات کا دفاع کرنے میں درست مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ میں ہلاک 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت
دوسری جانب سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ برطانیہ کو شروع سے ہی امریکا کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔ تاہم یویٹ کوپر نے کہا ہے کہ سیاست میں مختلف آراء موجود ہوتی ہیں اور ماضی کی غلطیوں خاص طور پر عراق جنگ کے تجربے سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ابتدائی طور پر امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں براہِ راست شرکت نہیں کی، لیکن بعد میں دفاعی مقاصد کے لیے امریکا کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی گئی اور خطے میں رائل ایئر فورس کے طیارے بھی تعینات کیے گئے۔
ادھر لندن میں ایران کے سفیر سید علی موسوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈے یا تنصیبات استعمال ہوئیں تو انہیں جائز اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔







