“بھائی میں تو سموکنگ نہیں کرتا میں تو ویپنگ کرتا ہوں۔ میرا بھائی، میرا بیٹا ویپنگ کرتا ہے۔ سموکنگ چھوڑنی ہے تو ویپنگ شروع کر دو۔ نہیں نہیں ویپنگ صحت کے لیے خطرناک نہیں ہے۔” یہ وہ تمام جملے ہیں جو ہمیں عام سننے کو ملتے ہیں۔
کیا آپ کو بھی ویپنگ کرنے کا شوق ہے؟ منہ سے دھواں نکالتے ہوئے ویڈیوز بنانا اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا آج کل فیشن بن چکا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کو صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ اس لت کے باعث زندگیاں گنوا رہے ہیں اورکروڑوں مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں سگریٹ نوشی زیادہ خطرناک ہے یا پھر ویپنگ؟
ویپنگ انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ کیا ویپنگ یا ای سگریٹ تمباکو نوشی چھوڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا پھر تمباکو نوشی کی لت کا باعث بنتی ہے؟
حکومت پا کستان نے 2015 میں سگریٹ کے پیکٹس پر خوفناک تصاویر شائع کرنا لازم قرار دیا تھا تاکہ تمباکو نوشی کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں یومیہ 460 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے زندگیاں گنوا رہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد سگریٹ کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ باقی افراد دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔
حقہ اور بیڑی تو تمباکو نوشی کے پرانے یا روایتی طریقے ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ویپنگ ایک ایسا طریقہ ہے جو نوجوانوں خصوصا شہری علاقوں میں تیزی سے عام ہوا ہے۔
ویپنگ ایک ایسا فعل ہے جس میں نکوٹین کو دھویں کی شکل میں ای سگریٹ یا الیکڑانک سگریٹ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک ماہ تک تحقیق کی گئی جس میں 114 سگریٹ نوشوں نے حصہ لیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق ویپنگ سے دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مکمل طور پر صحت کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سگریٹ نوشی کے تمام طریقوں کو ترک کرنا ہی صحت کے لئے محفوظ ہے۔
سگریٹ کے دھوئیں میں موجود کیمیائی مادے خون میں شامل ہو کر شریانوں سے گزرتے وقت چربی کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ شریانوں کی پھیلنے کی صلاحیت سے ہی ان کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
برٹش جنرل آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق شریانوں کے پھیلنے اور ہارٹ اٹیک کے طویل مدتی خطرات کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا ہے، صحت مند اور سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کا سکور 7.7 فیصد، سگریٹ نوشی کرنے والوں کا سکور 5.5 فیصد جبکہ ویپنگ کرنے والوں کا سکور 6.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
طبی ماہرین کے مطابق ای سگریٹ میں موجود نکوٹین دماغی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو کہ عادی بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے محلول میں موجود کیمیائی مادے پھیپھڑوں اور دل کی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
پاکستان میٹرز نے منصورہ ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر عمیر احمد صدیقی سے اس معاملے پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ”ویپنگ معاشرے میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نوجوان اسے فیشن سمجھ کر چھوٹی عمر سے ہی اپنا رہے ہیں۔ ویپنگ سیگریٹ نوشی سے کم نقصان پہنچاتی ہے لیکن پھر بھی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ دل اور پھیپھڑوں پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ پھیپھڑوں پر اس کے اثرات سے دمہ اور پیرینچیمل جیسی مہلک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ویپنگ انسان کی شریانوں کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “نوجوان نسل میں ویپنگ اس لیے بڑھ رہی ہے کیوں کہ اس کو فیشن کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ویپنگ مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور نوجوانوں تک آسان رسائی اس کے استعمال کو بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو ویپنگ پہ بھی قانون سازی کرنی چاہیے تا کہ اس کے استعمال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ جس طرح سگریٹ پہ پابندیاں لگائی گئی ہیں اسی طرح ویپنگ پہ بھی لگائی جانی چاہیے”۔
ماہرین کی رائے اور دنیا بھر میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق ویپنگ تمباکو نوشی سے کم مگر نقصان دہ اور انسانی صحت کے لیے مہلک ہے۔ فیشن کے طور پر ویپنگ کرنے والے افراد کی بڑی تعداد تمباکو نوشی کی عادی ہو جاتی ہے جو مزید طبی نقصانات کا باعث ہوتا ہے۔