انہوں نے یہ اعلان سنٹرل جیل پشاور کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے جیل میں قائم میڈیکل وارڈ، ای وزٹ سسٹم اور جدید سکیورٹی منصوبے کا افتتاح بھی کیا۔ یہ سکیورٹی منصوبہ 44 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔

دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے قیدیوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور متعدد معاملات پر موقع پر ہی فوری احکامات جاری کیے۔

انہوں نے منشیات کے عادی قیدیوں کی بحالی کے مرکز اور ماڈل انٹرویو روم کا بھی افتتاح کیا، جس کا مقصد قیدیوں کی اصلاح اور انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی خصوصی معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیدی جو جرمانوں کی عدم ادائیگی کے باعث جیلوں میں ہیں، ان کے جرمانے صوبائی حکومت ادا کرے گی تاکہ انہیں رہائی میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے دو کروڑ روپے فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا اور جیلوں میں ڈیجیٹل کمپلینٹ سیل قائم کرنے کی ہدایت جاری کی۔

انہوں نے صوبے کی تمام جیلوں کی سولرائزیشن کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ جیلوں میں ہسپتال کی سہولت کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جب کہ کم عمر لڑکوں اور خواتین کے لیے علیحدہ اور خصوصی سیلز قائم کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے فیملی کوارٹرز میں مزید بہتری کی ہدایت بھی دی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ دیگر صوبوں میں قید خیبر پختونخوا کے قیدیوں کو واپس لانے کے لیے متعلقہ صوبوں کو باضابطہ خطوط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے آئندہ ہفتے قیدیوں کے مسائل سننے کے لیے دربار یعنی کھلی کچہری منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا اور پیرول اینڈ پروبیشن ایکٹ 2022 پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ جیل کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ اصلاح ہے تاکہ قیدی بہتر انسان بن کر معاشرے میں واپس آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت انسانوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اداروں کو مضبوط، موثر اور اصلاحی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔