صدر گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن ملک شہزاد نے ہڑتال کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر ہڑتال ختم کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹرز کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد احتجاج جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

واضح رہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بھاری جرمانوں میں کمی، گاڑیوں کے مقررہ لوڈ میں اضافے اور دیگر سہولتوں کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جس پر حکومت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد اتفاق رائے پیدا ہوا۔

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث کراچی بندرگاہ پر کام بری طرح متاثر رہا۔ ہڑتال کے دوران بندرگاہ پر جہازوں کی آمدورفت رک گئی تھی، جب کہ ایک جہاز کراچی پورٹ اور دو جہاز بندرگاہ کے باہر کلنکر پورٹ پر ٹرکوں کے آنے کے منتظر تھے، جس سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔

ہڑتال کے سبب صنعتوں تک خام مال کی ترسیل معطل ہو گئی تھی، جس سے صنعتی پیداوار رکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

اس حوالے سے صدر آئرن مرچنٹس حماد پوناوالا نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث مال کی عدم دستیابی سے صنعتیں بند ہونے کے خطرے سے دوچار تھیں، جب کہ لوہے کے تاجروں اور دیگر اشیاء کے درآمد کنندگان کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ہڑتال کے خاتمے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی اور صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی۔