ذرائع کے مطابق ملزمان نے متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر اس کی نجی اور قابلِ اعتراض ویڈیوز ریکارڈ کیں اور بعد ازاں انہیں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عام کیا۔

اس غیر قانونی عمل کے ذریعے نہ صرف متاثرہ خاتون کی ذاتی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا گیا بلکہ اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو مسلسل بلیک میل اور ہراساں بھی کیا جاتا رہا، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے معاملے کی انکوائری نمبر 1094/25 کے تحت تحقیقات شروع کیں، جس کے بعد مقدمہ نمبر 340/25 درج کیا گیا۔

یہ مقدمہ پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 21 کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے ملزمان میں محمد شکیل اور شاہینہ بی بی شامل ہیں۔

تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جرم میں استعمال ہونے والا موبائل نمبر ملزمہ شاہینہ بی بی کے نام پر ہی رجسٹرڈ تھا، جس سے ملزمان کے ملوث ہونے کے شواہد مزید مضبوط ہو گئے۔

تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان نے جعلی شناخت اور مختلف آن لائن ذرائع استعمال کرتے ہوئے قابلِ اعتراض مواد کو سوشل میڈیا پر پھیلایا اور اسی مواد کو متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کو بھی ارسال کیا، جس کا مقصد انہیں دباؤ میں لانا اور ذہنی طور پر اذیت پہنچانا تھا۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خواتین کی عزت، وقار اور نجی زندگی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور ایسے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔