تفصیلات کے مطابق پی آئی اے پیپلز یونٹی کے زیرِ اہتمام پی آئی اے ٹاؤن آفس لاہور کے باہر ملازمین سڑکوں پر نکل آئے، احتجاجی بینرز اٹھائے اور نجکاری کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی آئی اے کی نجکاری کی جا رہی ہے، جسے فوری طور پر روکا جائے۔

پیپلز یونٹی کے صدر رانا کاشف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے گزشتہ ڈیڑھ برس سے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہے، یورپ اور دیگر ممالک کے روٹس بحال ہو چکے ہیں، ایسے میں نجکاری کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نجکاری کرنی ہی ہے تو پی آئی اے کو ملازمین کے حوالے کیا جائے۔

رانا کاشف نے دعویٰ کیا کہ جو کمپنی جتنی بولی دے گی، ہم اس سے زیادہ دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کے جہاز ملازمین کے حوالے کیے جائیں اور جو جہاز خراب ہیں، انہیں مرمت کرانے کی اجازت دی جائے، کیونکہ ہمیں دانستہ طور پر مرمت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو اونے پونے داموں مافیا کو فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی آئی اے کی نجکاری کی گئی تو ہم خودکشی کر لیں گے اور اس پرائیوٹائزیشن کو ہر صورت روکیں گے۔ 

یہ بھی پڑھیں: افغان نائب ناظم الامور دفترِ خارجہ طلب، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی پر شدید احتجاج ریکارڈ

رانا کاشف نے مزید کہا کہ نہ اس فیصلے کی منظوری پارلیمنٹ سے لی گئی ہے اور نہ ہی کونسل آف کامن انٹرسٹس سے، حالانکہ پی آئی اے ایک ریاستی ادارہ ہے اور آئین و قانون اس طرح کی نجکاری کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی ہے تو حکومت ثبوت پیش کرے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے بارہ سو ارب روپے سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہے، جب کہ اس کی قیمت محض سو ارب روپے لگائی جا رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔

رانا کاشف کے مطابق پی آئی اے نے اپنے تمام قرضے ادا کر دیے ہیں اور اس کے فضائی روٹس ہی اربوں ڈالر کی مالیت رکھتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو پی آئی اے کے ملازمین فضائی آپریشن معطل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔