راولپنڈی میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمران نہ بروقت بلدیاتی انتخابات کرواتے ہیں اور جب انتخابات ہوتے ہیں تو انہیں دانستہ طور پر دھاندلی زدہ بنا دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چند مخصوص خاندانوں، چوہدریوں، خانوں اور وڈیروں کو ہر صورت عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے، جب کہ عام آدمی کو اقتدار اور فیصلہ سازی سے باہر رکھا جاتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اس کالے قانون کے تحت چیئرمین اور وائس چیئرمین کا براہِ راست انتخاب ختم کر دیا گیا ہے، جس سے ہارس ٹریڈنگ اور وفاداریاں تبدیل کرنے کا دروازہ کھل جائے گا۔

ان کے مطابق یہ قانون جمہوریت نہیں بلکہ مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے اور فنڈز نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے حکمران طبقہ عوام سے وصول کیے گئے ٹیکس اپنی شاہ خرچیوں پر خرچ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم، صحت، روزگار اور خواتین کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، اس کے باوجود عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب یہ نظام مزید نہیں چل سکتا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر یہ کالا بلدیاتی قانون فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو جماعتِ اسلامی لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کرے گی۔

انہوں نے بدل دو نظام تحریک کی حتمی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 15 جنوری سے بدل دو نظام عوامی ریفرنڈم کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس میں نوجوان اور بالخصوص جنریشن زی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اب سیاست چہروں کے گرد نہیں گھومے گی بلکہ عوام کے مسائل کے حل اور نظام کی حقیقی تبدیلی ہی اصل سیاست ہوگی۔