کتاب کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کتاب کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ تصنیف کن مراحل سے گزرتے ہوئے مکمل ہوئی اور انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ اس کتاب کو دراصل پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر تحریر کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک طویل داستان ہے، تاہم مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات شر میں سے بھی خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی سے ابتدا میں یہ موضوع پی ایچ ڈی کے لیے منظور ہو چکا تھا، مگر یہ منظوری دراصل جماعتی گھرانے سے تعلق رکھنے والی محترمہ راحت بشیر کے لیے تھی۔ اس وقت شعبے کے سربراہ ڈاکٹر امان اللہ نے انہیں مشورہ دیا کہ چونکہ موضوع منظور شدہ ہے، اس لیے وہ بھی اس پر کام کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا ذوق اور شوق سید مودودیؒ کے سیاسی افکار پر بہتر انداز میں تحقیق کرنے کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں راحت بشیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس وقت برطانیہ جا چکی تھیں۔ اس دور میں فون کے ذریعے رابطہ ممکن نہ تھا، اس لیے انہوں نے خط لکھا۔ جواب آیا کہ وہ اس موضوع پر خود کام کرنا چاہتی ہیں، چنانچہ معاملہ مؤخر ہو گیا۔ ایک، دو اور پھر تین سال گزر گئے، جس کے بعد خود راحت بشیر کی جانب سے خط آیا کہ گھریلو مصروفیات کے باعث وہ یہ کام نہیں کر سکیں گی اور اب وہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو یہ موضوع اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوبارہ ڈاکٹر امان اللہ سے رابطہ کیا اور پی ایچ ڈی کی منظوری دوبارہ حاصل ہوئی۔ تاہم اس دوران پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے انہیں متعدد نوٹس موصول ہوئے کہ منظوری کے باوجود مقررہ مدت گزر رہی ہے اور ابھی تک عملی کام شروع نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کے پاس آٹھ سے دس ماہ باقی تھے اور واقعی وہ اس دوران تحقیق پر خاطر خواہ کام نہیں کر سکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا نافذ ہوا، جس کے نتیجے میں انہیں جماعتی مصروفیات اور ذمہ داریوں سے نسبتاً فراغت ملی اور وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے تحقیقی کام پر توجہ دے سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کچھ کریڈٹ پرویز مشرف کے دور کو بھی جاتا ہے، کیونکہ اسی دور میں انہیں تحقیق مکمل کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے ملک میں جمہوری عمل پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اکثر اے بی سی سے شروع ہو کر ایکس وائی زیڈ تک نہیں پہنچ پاتی، کیونکہ درمیان میں کبھی جی ایچ کیو آ جاتا ہے اور بعض اوقات تو بغیر اعلان کے ہی جی ایچ کیو موجود ہوتا ہے، جیسا کہ آج کل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور تقریب میں شریک تمام شرکاء سے اظہارِ تشکر کیا۔






