نجکاری کمیشن کے اعلامیے کے مطابق بولی کا عمل صبح 10 بج کر 45 منٹ سے 11 بج کر 15 منٹ تک جاری رہا، جبکہ جمع کرائی گئی بولیاں سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر کھولی جائیں گی۔ موصول شدہ بولیاں مہربند لفافوں میں محفوظ کی جائیں گی، جس کے بعد نجکاری کمیشن بورڈ اجلاس میں ریفرنس قیمت کا تعین کرے گا، اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اس کی منظوری دے گی۔ بولی کے کھلنے کے موقع پر ریفرنس قیمت کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
پی آئی اے کی نجکاری کا یہ عمل دوسری مرتبہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور نجکاری کمیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی نجکاری کا یہ عمل ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست نشر کیا جائے گا، جس میں بولیوں کے ساتھ ساتھ ریفرنس قیمت کا بھی اعلان کیا جائے گا، جبکہ تمام مراحل طے شدہ ضوابط کے مطابق مکمل کیے جائیں گے، اور مشیر برائے نجکاری محمد علی بولی کے اختتام پر میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ آئیں تو کھلی نیلامی کا عمل اختیار کیا جائے گا، اور اگر کم بولی آئیں تو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ترجیح دی جائے گی۔ بولی کے بعد کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ معاہدے کیے جائیں گے اور نجکاری کمیشن 90 دن کے اندر تمام قانونی کارروائی مکمل کرے گا۔
پی آئی اے کی نجکاری وزیراعظم شہباز شریف کے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے اور یہ قدم خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاحات اور بین الاقوامی فنڈز کے حصول کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
نجکاری کے اس عمل میں تین بولی دہندگان میدان میں ہیں: پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں۔ دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں، جبکہ تیسری بولی ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دی گئی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کے مطابق پی آئی اے خریدنے والے کو نئے جہازوں کی خریداری پر سیلز ٹیکس سے استثنا دیا جائے گا اور بولی دہندگان کو چند ضمانتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نجکاری میں پی آئی اے کے جہاز، روٹس اور انجن بنیادی اثاثے ہیں۔
ملازمین سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، میڈیکل سہولیات، سبسیڈیز اور ٹکٹس سمیت تمام معاہدے پورے کیے جائیں گے، جبکہ حاضر سروس ملازمین کی پنشن اور دیگر وعدے بھی برقرار رہیں گے۔ ان کے مطابق نیا خریدار پہلے بارہ ماہ تک کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکال سکے گا۔
واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں بھی پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی تھی، تاہم وہ عمل اس وقت ناکام ہو گیا تھا جب نجکاری کمیشن کی مقرر کردہ کم از کم 85 ارب روپے کی قیمت کے مقابلے میں واحد بولی دہندہ بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم نے صرف 10 ارب روپے کی پیشکش کی، جس کے بعد نجکاری کا عمل مؤخر کر دیا گیا تھا۔







