برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ برطانوی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق کوئی بھی مواد پولیس کے پاس جائے تو وہ اس کا جائزہ لے کر مجرمانہ تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔
اس سے قبل دفترِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ پاکستانی عسکری قیادت کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے معاملے پر برطانوی شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے بعد برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کیا گیا ہے۔
سفارت کار کی پاکستانی دفترِ خارجہ میں طلبی پر برطانوی ہائی کمیشن کا ردِعمل: ’اگر برطانیہ میں کوئی جرم ہوا ہے تو پولیس کو شواہد دیں‘
— BBC News اردو (@BBCUrdu) December 26, 2025
مزید تفصیلات: https://t.co/7VnLtnDbAy pic.twitter.com/skOtwZ2Vuf
ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو دفترِ خارجہ طلب کر کے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
ڈیمارش میں برطانوی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستانی قیادت کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اپنی زمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے برطانوی حکام کو ایک خط لکھ کر بریڈ فورڈ کے احتجاج کے دوران پاکستانی فوجی قیادت کے خلاف مبینہ دھمکیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اس خط کی تصدیق بھی کی ہے۔
برطانیہ نے پاکستان کے ڈیمارشے کے جواب میں کہا ہے کہ برطانوی پولیس اور پراسیکیوٹر حکومت سے آزاد طور پر کام کرتے ہیں۔
— Azhar Javaid (@azharjavaiduk) December 26, 2025
برطانیہ نے کہا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی حکومت کو لگتا ہے کہ کوئی جرم ہوا ہے تو اسے تمام متعلقہ مواد برطانوی پولیس کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔
برطانیہ نے واضح کیا کہ… pic.twitter.com/9VLEbZayEN
ان کا کہنا تھا کہ خط میں ایک خاتون کی جانب سے دئیے گئے اشتعال انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو کا حوالہ بھی شامل ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کی فوجی قیادت کے خلاف انتہائی سنگین زبان استعمال کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
یاد رہے کہ 23 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی برطانیہ کے ایک آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں چند مظاہرین کو پاکستان کے فیلڈ مارشل کے خلاف مبینہ طور پر بم دھماکے کے ذریعے قتل کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ ویڈیو میں موجود خاتون نے انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی۔






