وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کرسمس کے دوران توڑ پھوڑ کے حالیہ قابلِ مذمت واقعات اور مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں چلنے والی مہمات، جن میں ان کے گھروں کی مسماری اور بار بار لنچنگ کے واقعات شامل ہیں، مسلمانوں میں خوف اور احساسِ محرومی کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ محمد اخلاق کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں ریاستی اداروں نے مجرموں کو احتساب سے بچانے کی کوشش کی، ایسے متاثرین کی فہرست افسوسناک طور پر طویل ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ عالمی برادری کو انڈیا میں ہونے والی ان پیش رفتوں کا نوٹس لینا چاہیے اور وہاں کمزور اور غیر محفوظ برادریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔