انہوں نے کہا کہ ان کے سامنے وہ نسل موجود ہے جس نے نہ صرف پاکستان کو سنبھالنا ہے بلکہ اپنے خاندانوں اور معاشرے کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہے، اور یہی وہ نسل ہے جو آفات کے وقت خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیش کرتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج انسانیت مجموعی طور پر مشکلات کا شکار ہے، مگر جب نوجوان درخت لگاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بہتر ماحول میسر آتا ہے اور جب وہ لوگوں کی خدمت کرتے ہیں تو یہ ایک بڑی نیکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر نسل صرف اپنی ہی نسل کی حمایت کرے، وہ خود جنریشن زی سے تعلق نہیں رکھتے لیکن اس کے حق میں بات کرتے ہیں کیونکہ آج کی نسل کے پاس وہ وسائل ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کریں اور اگر نوجوان سوال کرتے ہیں تو ہمیں ان کے جواب دینے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی ہوگی۔

انہوں نے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ طاقت اور ٹیکنالوجی کے زور پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر انڈیا میں پادریوں کی تذلیل پر مغرب میں آواز اٹھائی گئی، اگر اس کا معمولی سا حصہ بھی پاکستان میں ہوتا تو ہمارے بارے میں ردعمل مختلف ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات عالمی قوانین کی نفی کرتے ہیں اور قرآن کی زبان میں ایسے طرزِ عمل کو طاغوت کہا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین اور غزہ رقبے کے لحاظ سے لاہور سے بھی چھوٹا ہے مگر وہاں سے ایک تحریک اٹھی، اور غزہ میں جنگ بندی کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب نوجوان نسل خود ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کر رہی ہے کہ یہ ظلم کب رکے گا۔ انہوں نے معاشی ناہمواری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بیس فیصد آبادی اسی فیصد وسائل پر قابض ہے اور بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ٹرمپ منتخب ہوئے تو جیف بیزوس نے اربوں کی سرمایہ کاری کی اور بعد میں پالیسیوں سے اس سے دگنا فائدہ اٹھایا، جو جمہوریت کے نام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کی سمت درست ہوگی تو کوئی آپ کو چیلنج نہیں کر سکے گا، اور انہوں نے نوجوانوں کے رضاکارانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں نوجوانوں کو لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اے آئی کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا آپ کی دسترس میں ہے مگر اس کے باوجود مواقع محدود ہیں، انٹرنیٹ سست ہے اور وسائل کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الخدمت نے مائیکرو فنانسنگ کے شعبے کو وسعت دی ہے اور بچوں کو انڈسٹری سے جوڑنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے ہی نہیں بلکہ بھٹوں اور مکینک شاپس پر کام کرنے والے نوجوان بھی جنریشن زی کا حصہ ہیں، جبکہ بہت سے بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں واپس تعلیم کی طرف لانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان ختم ہو چکے ہیں، گلیوں میں گاڑیاں آ گئی ہیں، سرحدیں بند ہیں مگر منشیات تعلیمی اداروں تک پہنچ رہی ہیں اور نوجوان نسل کے جسموں میں زہر اتارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کی نرم تربیت ہو، انہیں دینی تعلیم دی جائے، ہمارا ماضی تابناک رہا ہے اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے، مگر اب ان شاء اللہ ہم دوبارہ آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر نسل صرف اپنی ہی نسل کی حمایت کرے، وہ خود جنریشن زی سے تعلق نہیں رکھتے لیکن اس کے حق میں بات کرتے ہیں کیونکہ آج کی نسل کے پاس وہ وسائل ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کریں اور اگر نوجوان سوال کرتے ہیں تو ہمیں ان کے جواب دینے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی ہوگی۔

انہوں نے عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ طاقت اور ٹیکنالوجی کے زور پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسمس کے موقع پر انڈیا میں پادریوں کی تذلیل پر مغرب میں آواز اٹھائی گئی، اگر اس کا معمولی سا حصہ بھی پاکستان میں ہوتا تو ہمارے بارے میں ردعمل مختلف ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات عالمی قوانین کی نفی کرتے ہیں اور قرآن کی زبان میں ایسے طرزِ عمل کو طاغوت کہا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فلسطین اور غزہ رقبے کے لحاظ سے لاہور سے بھی چھوٹا ہے مگر وہاں سے ایک تحریک اٹھی، اور غزہ میں جنگ بندی کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نوجوان نسل خود ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کر رہی ہے کہ یہ ظلم کب رکے گا۔ انہوں نے معاشی ناہمواری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بیس فیصد آبادی اسی فیصد وسائل پر قابض ہے اور بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ٹرمپ منتخب ہوئے تو جیف بیزوس نے اربوں کی سرمایہ کاری کی اور بعد میں پالیسیوں سے اس سے دگنا فائدہ اٹھایا، جو جمہوریت کے نام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فراڈ کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا اور جنریشن زی ہی اسے چیلنج کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کی سمت درست ہوگی تو کوئی آپ کو چیلنج نہیں کر سکے گا، اور انہوں نے نوجوانوں کے رضاکارانہ کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں نوجوانوں کو لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ اے آئی کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا آپ کی دسترس میں ہے مگر اس کے باوجود مواقع محدود ہیں، انٹرنیٹ سست ہے اور وسائل کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت نے مائیکرو فنانسنگ کے شعبے کو وسعت دی ہے اور بچوں کو انڈسٹری سے جوڑنے پر کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے ہی نہیں بلکہ بھٹوں اور مکینک شاپس پر کام کرنے والے نوجوان بھی جنریشن زی کا حصہ ہیں، جبکہ بہت سے بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں واپس تعلیم کی طرف لانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدان ختم ہو چکے ہیں، گلیوں میں گاڑیاں آ گئی ہیں، سرحدیں بند ہیں مگر منشیات تعلیمی اداروں تک پہنچ رہی ہیں اور نوجوان نسل کے جسموں میں زہر اتارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کی نرم تربیت ہو، انہیں دینی تعلیم دی جائے، ہمارا ماضی تابناک رہا ہے اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے، مگر اب ان شاء اللہ ہم دوبارہ آگے بڑھیں گے۔