قومی پیغام امن کمیٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے سیکریٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، ملک میں امن کے لیے علماء کرام کا اہم کردار ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور ملک نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیغام امن کمیٹی اس نظریے کو آگے لے کر چلے گی کہ دہشت گردوں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں، پوری امت کا اجماع ہے کہ پاکستان کی ریاست کے خلاف کوئی جہاد نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیرِاطلاعات نے کہا کہ ہم امن کا فروغ چاہتے ہیں، علماء کرام نے ہر دور میں ملک کی خدمت کی ہے، قومی پیغام امن کمیٹی بااختیار ہے، قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد امن کے پیغام کو پھیلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے، یہ پیغام گھر گھر پہنچایا جائے گا، پشاور کے دورہ کے موقع پر تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام سے بات چیت ہوگی، ہمارا عزم ہے کہ ہم نے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
لازمی پڑھیں: صدر آصف زرداری کا 13 سے 16 جنوری تک بحرین کا سرکاری دورہ،کن اہم امور پر بات ہوگی؟
عطاتارڑ نے کہا کہ پکڑے گئے اور مارے گئے دہشت گردوں کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کو بیرونی فنڈنگ ہو رہی ہے، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج دم بدن بے نقاب ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ہم امن کے پیغام کو عام کریں گے۔







