واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے گزشتہ سال اگست میں محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا تھا، کیونکہ اس عہدے پر فائز رکن قومی اسمبلی عمر ایوب 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل ہو چکے تھے۔
گزشتہ منگل کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کے عمل کا ازسرِنو آغاز کیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تقریباً پانچ ماہ سے خالی تھا جو اگست 2025 میں عمر ایوب کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔
اسپیکر قومی اسمبلی کو 12 جنوری کو ارسال کی گئی تحریری تجویز میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن بینچوں سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے اراکین متفقہ طور پر این اے 266 سے منتخب رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔
درخواست میں قومی اسمبلی کے قواعدِ کار 2007 کے رول 39 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کا تقرر اپوزیشن کے ان ارکان میں سے کیا جانا ہوتا ہے جو اپوزیشن بینچوں کی اکثریت کا اعتماد رکھتے ہوں۔ تحریری درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن کی اکثریت کا اعتماد رکھتے ہیں اور اس آئینی منصب کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔
درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی بروقت تقرری سے اپوزیشن کو اپنی آئینی اور پارلیمانی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں مدد ملے گی۔
اسی روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ محمود خان اچکزئی کے نامزدگی کاغذات جمع کرا دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عہدے کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے صرف ایک ہی امیدوار نامزد کیا گیا ہے اور وہ محمود خان اچکزئی ہیں۔
پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری کے مطابق محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر اس لیے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے موجودہ رہنماؤں میں سے کوئی بھی اس منصب کے لیے موزوں نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی کی نامزدگی سے موجودہ کشیدگی میں کمی آئے گی اور جاری مذاکراتی عمل میں بھی سہولت پیدا ہوگی۔
فواد چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے موجودہ رہنما کشیدگی کم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ممکن ہے کہ محمود خان اچکزئی کے قائدِ حزبِ اختلاف بننے سے سیاسی فضا میں کچھ بہتری آ سکے۔







