اس حوالے سے وزیر اعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ذمے داری سونپ دی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کی اہمیت کا حامل ہے۔
گفتگو کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور کارکنان کی گرفتاریوں کو سخت قابلِ مذمت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ پروگرام پر پوری قوم کو سخت تحفظات ہیں اور پاکستان کو صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے پر قائم رہنا چاہیے۔ حکومت کو کسی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، جو بالآخر اسرائیل کو مزید طاقت فراہم کرے۔
حافظ نعیم الرحمن نے آزاد کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کشمیری عوام کے ساتھ احتیاط اور ذمے داری کے ساتھ پیش آیا جائے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ یہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور کسی محدود طبقے کے بیانیے کو تمام کشمیری عوام کا مؤقف قرار نہ دیا جائے۔
دوسری جانب اس سے قبل منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی حمایت دراصل فلسطین اور کشمیر کے عوام کی قربانیوں سے انحراف کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں کرپشن اور مراعات کے تحفظ کے لیے تو یکجا ہیں مگر عوامی مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کر رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دو ریاستی حل ہماری پالیسی ہے۔ کس پارلیمنٹ میں یہ پالیسی طے کی گئی ہے، پارلیمنٹ تو یہ نوجوانوں کی ہے۔ کوئی دوسری ریاست نہیں ہے، ایک ہی ریاست ہے اور وہ فلسطین ہے۔ باقی جو کچھ بھی ہے وہ صہیونیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
حافظ نعیم کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو قتلِ عام اور بمباری کا لائسنس دے رکھا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ دراصل ایک نیا نوآبادیاتی ایجنڈا ہے جس میں فلسطینی عوام کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ غزہ امن منصوبے کا مقصد صرف اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، اس کا امن یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ دراصل مزید خونریزی اور مظلوموں کے قتلِ عام کا باعث بنے گا اور اسے ماننے سے کشمیر پر پاکستان کا مؤقف بھی کمزور ہوگا۔ حافظ نعیم نے مزید کہا کہ حماس کے رہنما جنگ بندی کے خواہاں ہیں لیکن عالمی برادری دباؤ ڈالنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، حالانکہ اس وقت 22 سے 30لاکھ لوگ قحط سالی میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلوٹیلا کے ذریعے دنیا بھر کے کارکنان اور اہم شخصیات خوراک اور امدادی سامان فلسطین لے جا رہی ہیں لیکن ان پر بھی بمباری کی گئی جو کھلی دہشت گردی ہے۔ ان کے مطابق اس پرامن قافلے میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت پانچ رہنما، انسانی حقوق کے کارکن، نیلسن منڈیلا کے پوتے، یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور صحافی بھی شامل تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے خلاف ملک بھر میں بھرپور احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔







