اسد قیصر نے کہا کہ اتنے اہم اور حساس قومی معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اہم فیصلے پردے کے پیچھے طے کیے جا رہے ہیں جنہیں عوام کے نمائندوں سے چھپایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ غزہ اور فلسطین جیسے نازک مسئلے پر پارلیمنٹ، اتحادی جماعتوں اور قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ اگر فلسطینیوں کی مشاورت کے بغیر کوئی معاہدہ کیا گیا تو وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایسا کوئی معاہدہ نہیں مانا جائے گا جس میں فلسطینیوں کی رائے شامل نہ ہو۔ اسد قیصر نے کہا کہ سینیٹر مشتاق فلسطینیوں کے لیے امداد لے جا رہے تھے جنہیں اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا۔ حکومت فوری اقدام کرے اور واضح حکمت عملی سامنے لائے۔


سابق اسپیکر کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے کھل کر بات نہیں کی۔ آئیں بائیں شائیں کرنے سے قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکات منظر عام پر آنے سے پہلے ہی تمام شرائط تسلیم کر چکے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پہلے ہی جھک چکی ہے۔

اسد قیصر نے واضح کیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حرم شریف کے لیے ہم سب کی جانیں قربان ہیں لیکن اس جذبے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

واضع رہے کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے اسد قیصر کے ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ غزہ سے متعلق کسی بھی پالیسی فیصلے پر شفافیت اور قومی مشاورت ضروری ہے۔