تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والے چھ افراد میں سے چار کی شناخت ہو چکی ہے، جب کہ ڈسٹرکٹ آفس ساؤتھ کی ہیلپ ڈیسک پر 34 لاپتہ افراد کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ہلاک شدگان میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب کے مطابق صدر کے علاقے میں 8000 مربع گز پر محیط عمارتوں میں لگی آگ انتہائی شدید نوعیت کی ہے اور اسے مکمل طور پر بجھانے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں ہیں جن میں پلاسٹک، فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم جیسا جلد آگ پکڑنے والا سامان موجود ہے۔
ترجمان کے مطابق عمارت نہایت پرانی ہے اور اس کے کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کے ساتھ کے ایم سی اور پاکستان نیوی کے فائر فائٹرز بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ بجھانے میں علاقے میں جاری تعمیراتی کام بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ بی آر ٹی منصوبے کے باعث سڑک تنگ ہونے اور کھدائی کی وجہ سے ریسکیو گاڑیوں کو گل پلازہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
حسان الحسیب کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ محض تماشا دیکھنے کے لیے جمع تھے، جس سے سڑک مکمل طور پر بلاک ہوگئی اور واٹر باؤزرز کو راستہ بنانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان نے بتایا کہ عمارت میں داخلے اور اخراج کے راستوں کا درست تعین نہ ہونے کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو متبادل راستہ زبردستی بنانا پڑا۔
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ ریسکیو حکام نے آگاہ کیا ہے کہ آگ بجھانے کے عمل میں مزید پانچ سے چھ گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے بعد کولنگ کا مرحلہ شروع ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ اندر پھنسے ہونے کے بارے میں صرف اندازے لگائے جا رہے ہیں، نہ ریسکیو اہلکار عمارت کے اندر داخل ہوئے ہیں اور نہ ہی مارکیٹ انتظامیہ کے پاس اس بارے میں واضح معلومات موجود ہیں۔
سعدیہ جاوید نے تصدیق کی کہ آتشزدگی کے باعث گل پلازہ کے دو حصے زمین بوس ہو چکے ہیں۔ دکانداروں نے بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ لوگ اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔ صدر گل پلازہ انتظامیہ کے مطابق سو سے زائد فیملیز نے اپنے پیاروں کے بارے میں رابطہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ صوبائی وزیر سعید غنی نے بھی آج صبح جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر اور کاروبار کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ اکثر اوقات لاپرواہی اور کوتاہیوں کے باعث ایسے سانحات جنم لیتے ہیں، جن کا سب سے زیادہ نقصان وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو ان عمارتوں میں رہتے یا کاروبار کرتے ہیں۔







