پاک فضائیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ مشق فضائی افواج کے درمیان ہم آہنگی، عملی اشتراک، پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ مشق میں بڑی فضائی قوت کی تعیناتی، رات کے آپریشنز، مربوط انٹیلی جنس، سرویلنس اور ریکنسنس (ISR) کے عمل، اور جدید الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں کارروائیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔
پاک فضائیہ کے دستے کی اس بین الاقوامی مشق میں شرکت کا مقصد نہ صرف دیگر شراکت دار فضائی افواج کے ساتھ تعاون بڑھانا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگی ماحول میں اپنی عملی تیاری کو بھی جانچنا ہے۔ پاکستان سے سعودی عرب تک ایف-16 طیاروں کی مسلسل پرواز نے دستے کی طویل فاصلے تک رسائی اور آپریشنل صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔
مزید پڑھیں: شام میں امریکی فضائی حملہ، امریکیوں کی ہلاکت میں ملوث رہنما القاعدہ ہلاک
اس مشق میں ایف-16 بلاک-52 طیاروں کے جدید ایویونکس اور بی وی آر رینج ہتھیاروں سے لیس پائلٹس شریک فضائی افواج کے ہوابازوں کے ساتھ مختلف جدید جنگی طیاروں کا سامنا کریں گے۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس اور عملے کی تربیت اور تجربہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مؤثر اور بروقت کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاک فضائیہ کی اس شرکت سے نہ صرف علاقائی اور بین الاقوامی عسکری تعاون کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے بلکہ یہ ملک کی فضائی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، اور ہم عصر فضائی افواج کے ساتھ مؤثر کام کرنے کی صلاحیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
پاک فضائیہ کی اس مشق میں شرکت کو ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستانی فضائی افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی سطح پر ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں گی۔







