اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ تاحال اپنے مؤکل سے ملاقات نہیں کر سکے۔ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ کیس دائر ہونے کے بعد سے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ممکن نہیں ہو سکی، جس کے باعث وہ مؤثر طریقے سے دلائل تیار نہیں کر پا رہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ملاقات ہو جاتی ہے تو 24 فروری کو کیس میں حتمی دلائل سنے جائیں گے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ عدالت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کے معاملے پر دائر توہینِ عدالت کی درخواست کا بھی جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے اس حوالے سے جیل حکام اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد آفس کو تفصیلی تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے کہا کہ ملاقات سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی وضاحت ضروری ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق کیسز ایک لارجر بنچ کے سامنے زیرِ سماعت ہیں اور جب تک ملاقات نہیں ہو پاتی، موجودہ کیس میں بھی پیش رفت ممکن نہیں۔ اس پر سلمان اکرم راجا نے مؤقف اختیار کیا کہ دو ماہ قبل 4 نومبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے عدالتی حکم جاری کیا گیا تھا، تاہم تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل میں ملاقات کے لیے واضح اور مؤثر احکامات جاری کیے جائیں تاکہ قانونی مشاورت ممکن ہو سکے۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کے بنیادی قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق کیس میں اپنا جواب عدالت میں جمع کرایا۔ تاہم عدالت نے پی ٹی اے کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’آپ رٹ پٹیشن دیکھیں اور اپنا جواب دیکھیں، دونوں میں واضح فرق ہے۔‘‘
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جاتی ہے تو کیس کو آگے بڑھایا جا سکے گا اور عدالت اس ضمن میں مناسب احکامات جاری کرے گی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔







