اس پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما نوید قمر نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آتش زدگی کے واقعے کی آڑ میں 18ویں ترمیم کو نشانہ بنایا گیا، جو حکمران جماعت کی پالیسی اسٹیٹمنٹ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے ایک سوال کے جواب میں کراچی کے سانحہ گل پلازہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر 18ویں ترمیم کے بعد سب کچھ درست ہے تو پھر کیا گل پلازہ میں لگنے والی آگ بھی درست تھی؟ انہوں نے کہا کہ جب بھی 18ویں آئینی ترمیم پر بات ہوتی ہے تو فوراً پھڑپھڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔

پی پی پی کے رکنِ قومی اسمبلی نوید قمر نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر وزیرِ دفاع اور آج وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی جانب سے سوالات اٹھانا حکمران جماعت کی پالیسی کا عکاس ہے، جسے پیپلز پارٹی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

 انہوں نے کہا کہ آج تک تاریخ کو مسخ کر کے قومی نصاب پڑھایا گیا۔ وفاق یہ چاہتا ہے کہ صوبے اپنے وسائل مرکز کو دیں تاکہ وہ قرض لے سکے اور قرض اتار سکے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ قرار دینے کے بیان سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ارکانِ اسمبلی اپنی ذاتی آرا کا اظہار کرتے رہتے ہیں، اس معاملے کو مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن سید حفیظ الدین نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں کہ اس پر بات ہی نہ کی جا سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس قائم کیے جائیں۔

پی پی پی کی رکن سحر کامران نے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈھکوسلہ 18ویں آئینی ترمیم نہیں بلکہ وہ صدارتی آرڈیننس تھا جو حکومت نے صدر کے دستخطوں کے بغیر جاری کر دیا تھا۔