کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے سانحہ گل پلازہ کو انتہائی دلخراش اور دردناک قرار دیا، اس واقعے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جس پر نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورا ملک غمزدہ ہے،کسی بھی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور حکومت اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت ملبے تلے دبے افراد کی لاشیں نکال کر لواحقین کے حوالے کی جا رہی ہیں،لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور کئی لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق سانحے کے بعد 86 افراد لاپتہ تھے، جن میں سے دو افراد کا سراغ مل گیا جو اسپتال میں زیر علاج تھے، جبکہ باقی افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی ہے اور انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گی، ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: اٹھارویں ترمیم میں بہتری پر مکالمہ ضروری، آئین میں گنجائش موجود ہے: رانا ثنااللہ
انہوں نے اس واقعے کے دوران آگ بجھاتے ہوئے ایک فائر فائٹر کی شہادت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت شہید فائر فائٹر کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کی مکمل کفالت کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری 2024 کو گل پلازہ سے متعلق ایک رپورٹ کمشنر کراچی کو ارسال کی گئی تھی، جس کے بعد دو جنوری کو کمشنر کراچی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ عمارتوں کا آڈٹ کریں، جب تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آتی، کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔
اٹھارویں ترمیم پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ ماضی میں بلدیہ فیکٹری جیسے سانحات پیش آئے، 12 مئی کو لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور معصوم جانیں لی گئیں، اس لیے ایسی باتیں کرنا مناسب نہیں،سانحات کا تعلق انتظامی غفلت اور قوانین پر عملدرآمد سے ہے، نہ کہ آئینی ترامیم سے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آ جائے گی کہ گل پلازہ کو کسی قسم کا نوٹس دیا گیا تھا یا نہیں اور اگر کسی بھی سطح پر کوتاہی ثابت ہوئی تو حکومت بلا امتیاز کارروائی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجر تنظیموں کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا جائے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان بھر میں 90 فیصد عمارتیں پرانی ہیں، جن میں ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات موجود نہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اجتماعی اصلاحات پر توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔







