اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹانے آئی ہیں، مگر ماضی میں عوام سے خوشی کا ماحول چھین کر انہیں لڑائی جھگڑوں اور فتنہ و فساد کے سپرد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب دل والوں کا صوبہ ہے، لیکن یہاں کے عوام کو طویل عرصے تک تفریح سے دور رکھا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 30 سال بعد پنجاب میں ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد کیا گیا اور رواں سال بھی یہ شو منایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہر شہری کو آزادی کے ساتھ خوشی منانے کا حق حاصل ہے، چاہے وہ عید ہو، ہولی، کرسمس یا رمضان، ہر مذہب اور طبقے کو خوشی منانے کا پورا حق ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ بسنت موسمِ بہار کی آمد کی علامت اور ایک خوبصورت تہوار ہے، جس کی تاریخ 800 سال پرانی ہے۔ بسنت پنجاب کی ثقافت اور ورثہ ہے اور دنیا بھر میں پنجاب کے کلچر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام کو بسنت کی خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ اس بار بسنت کو محفوظ اور منظم انداز میں منایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بسنت جیسے تہوار کا حادثات سے جُڑ جانا افسوسناک ہے، اسی لیے شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک جامع سیفٹی پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جب کہ ریڈ زون میں بائیک صرف سیفٹی راڈ کے ساتھ داخل ہو سکے گی۔ راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر دو ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور میں 10 لاکھ موٹر سائیکلوں پر مفت سیفٹی راڈ نصب کی جا رہی ہیں۔ بسنت فیسٹیول کے لیے 2,150 مینوفیکچررز، ٹریڈرز، دکانداروں اور دیگر متعلقہ افراد کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ بسنت سے قبل غیر قانونی پتنگ بازی پر 600 سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 641 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 27 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 10 ہزار سے زائد ضمانتی بانڈز حاصل کیے گئے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ بسنت سیفٹی پلان عوام کو سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کے تحفظ کے لیے ہے۔ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی ممنوع ہو گی اور صرف پنا استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی کے لیے نو دھاگوں پر مشتمل کاٹن ڈور استعمال کی جا سکے گی، جب کہ نائیلون یا دھاتی تار کی ڈور پر مکمل پابندی ہو گی۔ مقررہ سائز سے بڑی پتنگ اور گڈا اڑانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر پانچ سال قید اور پانچ ملین روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ 6، 7 اور 8 فروری کے علاوہ پتنگ بازی کرنے پر بھی جرمانہ اور قید کی سزا دی جائے گی۔ غیر قانونی پتنگ بازی کی صورت میں والدین اور سرپرستوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پتنگ بازی کوئی مذاق نہیں بلکہ عوام کی جان کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ ممنوعہ پتنگ بازی کی اطلاع دینے پر انعام بھی دیا جائے گا۔ بسنت کے دنوں میں پتنگ بازی کے لیے 35 انچ کی پتنگ اور 40 انچ کے گڈے کی اجازت ہو گی۔
ٹریفک کے حوالے سے خصوصی پلان بھی تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت 100 ٹریفک پولیس کیمپس قائم کیے جائیں گے۔ بسنت کے موقع پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جب کہ جہاں ڈور پھرنے کے واقعات پیش آئے، ان علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔
بسنت ٹرانسپورٹ پلان کے تحت عوام کو فری رائیڈ کی سہولت دی جائے گی۔ 500 بسیں چلائی جائیں گی، جب کہ اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرک بس اور فیڈر بس پر سفر مکمل طور پر مفت ہو گا۔ اس کے علاوہ یانگو کے چھ ہزار رکشے 24 روٹس پر 60 ہزار فری رائیڈز فراہم کریں گے۔ فری رائیڈ کا مقصد بائیک کے استعمال کو کم کرنا اور شہریوں کو ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ سیف سٹی اور کمشنر آفس میں خصوصی کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں، جہاں 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہے گا۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے تین روزہ بسنت فیسٹیول کی مانیٹرنگ کی جائے گی، جب کہ پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ہیلتھ سروسز پر مشتمل مکمل ایمرجنسی پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈس انفارمیشن اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور ذمہ داری کے ساتھ بسنت منائیں۔ انہوں نے کہا کہ بسنت عوام کی تفریح اور خوشی کے لیے ہے، اسے مہذب اور محفوظ انداز میں منایا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 6 فروری کی رات بسنت فیسٹیول کی لانچنگ کی جائے گی، جب کہ 7 فروری کو باقاعدہ طور پر بسنت کا آغاز ہو گا۔






