پولیس کے مطابق دھماکا جمعے کے روز اس عمارت میں ہوا، جہاں امن کمیٹی کے ارکان شادی کی تقریب میں موجود تھے۔ پولیس افسر محمد عدنان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ابتدائی طور پر 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، تاہم 4 زخمی دورانِ علاج دم توڑ گئے۔

امن کمیٹیاں مقامی عمائدین اور رہائشیوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جنہیں وفاقی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور ان کا مقصد افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہوسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی امن کمیٹیوں کے ارکان کو اپنے لیے خطرہ اور غدار قرار دیتی رہی ہے۔ تنظیم کا مقصد پاکستان کے موجودہ نظام کو ختم کرکے اپنے شدت پسند نظریے کے مطابق نظام نافذ کرنا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاک فوج افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے، جس کے باعث سخت سردی کے موسم میں ہزاروں افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی مزید متحرک ہوئی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، تاہم افغان حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیتی ہے۔