میئر کراچی نے گل پلازہ سانحے سے متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے لواحقین سے ملاقات کے دوران تعزیت اور گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت سندھ متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شہریوں کے دکھ پر سیاست کی جاتی ہے، تاہم گل پلازہ سانحے کے ذمہ داران کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں 17 جنوری کی شب مشہور گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں پوری عمارت تباہ ہو گئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ طارق کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں، جن میں سے 22 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ 6 لاشیں قابلِ شناخت تھیں، جب کہ 15 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، خواجہ آصف
سانحے کے بعد سندھ حکومت نے بڑا انتظامی اقدام کرتے ہوئے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 19 کی افسر سمیرا حسین کو میونسپل کمشنر کراچی کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے، جب کہ افضل زیدی کو سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی اور اس سے قبل 3 سالہ بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے پر بھی سابق میونسپل کمشنر کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد خستہ حال عمارت پر نصب وزنی اور دیو ہیکل سائن بورڈز ہٹانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سفارش پر سائن بورڈز ہٹانے کے لیے کرین طلب کر لی گئی ہے، جب کہ کارروائی کے دوران حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے متاثرہ خاندان کے کاروبار کی بحالی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال سرچ اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، کوشش ہے کہ متاثرین کے پیاروں کو جلد از جلد ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔







