مینگورہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تیراہ کے متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ نوٹی فکیشن واپس نہ لیا گیا اور اس پر معافی نہ مانگی گئی تو پہلے آفریدی قوم کا جرگہ بلاؤں گا، اس کے بعد پوری پختون قوم کا جرگہ منعقد کیا جائے گا۔ اگر یہ بیانیہ غلط ثابت ہوا تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود واپس تیراہ لے کر جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے آ کر پشاور میں پریس کانفرنسز کی جاتی ہیں کہ سہیل آفریدی کا نام منظور نہیں۔ کسی ادارے کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور میرے نام پر کسی ادارے کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میرا نام میرے لیڈر نے دیا تھا، اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے وزیراعلیٰ بننے سے روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ جب کوئی بیانیہ نہ بنا تو میرے بارے میں کہا گیا کہ میں دہشت گردوں سے ملا ہوا ہوں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جب ہر بیانیہ ناکام ہوا تو تین آپشن سامنے لائے گئے، صوبے میں گورنر راج لگایا جائے، سہیل آفریدی کو نااہل کیا جائے اور جب یہ دونوں آپشن ناکام ہوئے تو کہا گیا کہ سہیل آفریدی کو مار دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنر راج لگانے اور مجھے مارنے کے لیے عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے خیبرپختونخوا کے عوام کا اعتماد مجھ سے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب دہشت گرد اور اسمگلر والا بیانیہ ناکام ہوا تو میرے علاقے تیراہ میں آپریشن شروع کر دیا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وادی تیراہ میں آپریشن کے حوالے سے 24 رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے آپریشن کا فیصلہ کیا، تاہم اس کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا اور یہ بیانیہ بنایا گیا کہ ہم فوج یا اداروں کے دشمن ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم نہ فوج کے دشمن ہیں اور نہ اداروں کے۔ ہم صرف ان فیصلوں کی مخالفت کرتے ہیں جو بند کمروں میں کیے جاتے ہیں۔ ایسے فیصلے اور منصوبے ہمیں قبول نہیں جو عوام کو اعتماد میں لیے بغیر بنائے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فوجی جوانوں کے جنازوں میں شرکت کی اور اپنا کندھا دیا، اس کے باوجود ہمیں نہ بلایا گیا اور نہ ہی بلایا جاتا ہے۔ آج پھر وفاقی حکومت کی جانب سے ایک نیا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ عوام خود تیراہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ مجھے بتایا جائے کہ کیا یہ لوگ نواز شریف کے نواسے کی شادی میں جا رہے تھے؟ آخر انہوں نے اپنے گھر کیوں چھوڑے؟
یہ بھی پڑھیں: ریاست آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، حافظ نعیم الرحمان
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج جاری کیا گیا اعلامیہ صوبائی حکومت، اداروں اور وفاقی حکومت کے درمیان تصادم کا پروانہ ہے۔ میں صوبائی حکومت کو ہدایت دیتا ہوں کہ اداروں کے ساتھ ہر رابطہ تحریری اور ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے نقصان دہ ہوتے ہیں، کیونکہ بعد میں ان سے پیچھے ہٹ جایا جاتا ہے۔ تحریری رابطہ ہوگا تو پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ کہا جا رہا ہے کہ تیراہ کے لوگ رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں، اس لیے آئندہ اتوار کو تیراہ کا جرگہ بلایا جا رہا ہے، جس میں لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ انہیں نکالا جا رہا ہے یا وہ خود جا رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں نے کہا کہ انہیں زبردستی نکالا جا رہا ہے تو ہم اپنے لوگوں کو خود واپس تیراہ لے کر جائیں گے۔ اگر دو روز میں نوٹی فکیشن واپس نہ لیا گیا اور معافی نہ مانگی گئی تو میں پوری پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا۔






