دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر اپنے حملے بند کرنے چاہییں تاکہ نہ صرف معصوم فلسطینی شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں بلکہ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی بھی ممکن ہو سکے۔

29 ستمبر کو وائٹ ہاؤس نے غزہ میں دو برس سے جاری جنگ کے خاتمے، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور فلسطینی سرزمین کے مستقبل کے حوالے سے ایک 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔

اس منصوبے پر حماس نے ردعمل دیتے ہوئے جمعے کو کہا کہ وہ قیدیوں کے تبادلے اور جنگ کے خاتمے کے لیے فوری مذاکرات پر آمادہ ہے۔

پاکستان نے اس جواب کو ایک اہم موقع قرار دیا ہے جس کے ذریعے فوری جنگ بندی، انسانی امداد، قیدیوں کی رہائی اور ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے آغاز کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔


وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ہم جنگ بندی کے اتنے قریب ہیں جتنا اس نسل کشی کے فلسطینی عوام پر مسلط کیے جانے کے بعد کبھی نہیں تھے۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے صدر ٹرمپ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقعے پر ملاقات کی تاکہ فلسطینی مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی۔

دونوں رہنماؤں سے بات چیت میں غزہ کی سنگین صورت حال، علاقائی پیش رفت اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

عرب و اسلامی ممالک اور امریکہ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی سفارتی مشاورتوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن کا مقصد جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل اور غزہ میں دیرپا امن قائم کرنا ہے۔اسحاق ڈار نے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا اور شہزادہ فیصل کے تعمیری کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔

مصری وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جو خوش دلی سے قبول کر لی گئی۔

دونوں وزرائے خارجہ سے ہونے والی بات چیت میں فلسطینی کاز سے وابستگی کا اعادہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دو ریاستی حل ہی ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی بنیاد ہو سکتا ہے، جس کے تحت 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ان کی جدوجہد آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف موجودہ سفارتی کوششوں کا بھرپور حصہ ہے بلکہ آئندہ بھی ہر ممکن سطح پر فلسطین کے ساتھ کھڑا رہے گا۔