یہ بات انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ وادی تیراہ اور اس کے مضافاتی علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی ہر سال شدید سردی کے موسم میں ہوتی ہے اور اس عمل کا مسلح افواج یا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں مسلح افواج نے برسوں سے کسی بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیے، بلکہ تقریباً 500 ٹی ٹی پی عناصر کے خلاف امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہدفی بنیادوں پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز  کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع نے بتایا کہ دسمبر میں 26 رکنی جرگہ خیبر پختونخوا حکومت سے ملا، جس کے نتیجے میں چار ارب روپے کے ہجرت پیکیج کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتظام صوبائی حکومت اور مقامی عمائدین کے درمیان تھا اور اس کا مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کا الزام فوج پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کی فصل کاشت کی جاتی ہے، جو بھاری آمدنی کا ذریعہ ہے۔

ان کے مطابق اس فصل سے حاصل ہونے والا منافع بعض سیاسی شخصیات اور ٹی ٹی پی کے درمیان تقسیم ہوتا ہے، جس سے مشترکہ مفادات جنم لیتے ہیں، جب کہ پولیس اسٹیشنز اور اسکولوں جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے صوبائی خزانے کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں کہ ہجرت پیکیج کے لیے مختص چار ارب روپے درحقیقت کہاں اور کس طرح خرچ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا ڈیجیٹل صحافت کے فروغ کے لیے ایک ہزار اسکالرشپس دینے کا اعلان

انہوں نے دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا حکومت کی مدد کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ توجہ حقیقی عوامی فلاح پر مرکوز کی جائے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ عوامی فلاح کے لیے مختص فنڈز کو سیاسی مقاصد کے لیے سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فنڈز کے استعمال پر سخت احتساب ہونا چاہیے۔