پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے آج مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں بیرسٹر گوہر، راجہ ناصر عباس اور سلمان اکرم راجا شریک تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، اس کے بعد آج تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہم نے اس حوالے سے پٹیشن بھی دائر کی، لیکن اس کے باوجود ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایک اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا گیا اور پھر جیل واپس لایا گیا۔ اس خبر کے بعد پارٹی اور اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس بیماری کی وجہ سے اسپتال لے جایا گیا۔ ہم اس طرزِ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ اپنی طاقت کے لیے آئین میں ترامیم کر رہے ہیں، جس سے عوام کی نظر میں آپ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ آٹھ فروری تک ملاقاتیں نہ روکیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان کو اسپتال لایا گیا، مگر نہ پارٹی کو اس کا علم ہے اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو۔ اس طرح کے اقدامات سے یہ لوگ دن بہ دن عوام کی نظروں میں گر رہے ہیں۔

علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ ان سب اقدامات کا انہیں جواب دینا پڑے گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ظلم کیا جائے اور اس کا احتساب نہ ہو۔ آٹھ فروری کو عوام نے آپ کو بری طرح مسترد کر دیا تھا۔ عوام نے ہر رکاوٹ کو توڑ دیا۔ اگر آج عمران خان باہر ہوتے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بورڈ بھی نہ بنتا۔ جب غزہ کے عوام چیخ رہے تھے، تب آپ ان کی مدد کے لیے نہیں گئے۔

انہوں نے کہا کہ آپ سمجھتے تھے کہ انتخابی نشان چھین لیں گے اور کارنر میٹنگز نہیں کرنے دیں گے، مگر عوام نے جو ردِعمل دیا، وہ سب نے دیکھ لیا۔ سیاسی بحران آٹھ فروری کے انتخابات سے پیدا ہوا، بے روزگاری میں اضافہ ہوا، کسانوں کو نقصان پہنچا، اسی لیے ہم نے آٹھ فروری کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقاتیں نہیں کروائی جا رہیں، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ عمران خان کے ذاتی معالج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ہم نے ملاقاتوں کے لیے پٹیشن دائر کی تھی، مگر آج معلوم ہوا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پٹیشن کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان سے ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ یہ سب ایک ظالمانہ طرزِ عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں شاید سیاست کو بھی دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام اپنی بے زاری کا اظہار کریں۔