اگر کسی نئی لڑائی کا آغاز ہوا تو پاکستان پیچھے نہیں رہے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر
دوسری جانب آئی ایس پی آر کے آج جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے انڈین سکیورٹی اداروں کی سب سے اعلیٰ سطح سے آنے والے اشتعال انگیز اور جارحانہ بیانات انتہائی تشویش کے ساتھ نوٹ کیے ہیں۔
یہ غیر ذمہ دارانہ بیانات جارحیت کے بہانے تراشنے کی ایک نئی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ایک ایسی صورتِ حال جو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
پاک فوج کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق انڈین وزیر دفاع اور اس کے فوجی و فضائی سربراہان کے انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے پیش نظر ہم انتباہ کرتے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی تنازع تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر کسی نئی لڑائی کا آغاز ہوا تو پاکستان پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم بلا جھجھک اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے منہ توڑ جواب دیں گے۔
بیان کے مطابق دہائیوں سے انڈیا نے خود کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کر کے اور پاکستان کی ساکھ بدنام کر کے فائدہ اٹھایا، جبکہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تشدد کو ہوا دینے اور دہشت گردی کا ارتکاب کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔
یہ بیانیہ کافی حد تک بے نقاب ہو چکا اور اب دنیا انڈیا کو سرحد پار دہشت گردی کا اصل چہرہ اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’اس سال کے آغاز میں انڈیا کی جارحیت نے دو ایٹمی قوتوں کو بڑے جنگ کے کنارے تک پہنچا دیا۔
’تاہم لگتا ہے انڈیا اپنے طیاروں کے ملبے اور پاکستان کے طویل فاصلے کے حملہ آور ہتھیاروں کے انتقام کو بھول چکا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ’جو نیا نارمل قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان نے ردِعمل کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے، جو تیز، فیصلہ کن اور تباہ کن ہے۔
’بلا جواز خطرات اور لاپرواہی پر مبنی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے عوام اور مسلح افواج میں دشمن کی سرزمین کے ہر کونے تک لڑائی لے جانے کی صلاحیت اور عزم موجود ہے۔
’جہاں تک پاکستان کو نقشے سے مٹانے کی بات ہے، انڈیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ایسا موقع آیا تو یہ مٹنا باہمی ہو گا۔‘