تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام ریسکیو حکام کو 7 بج کر 32 منٹ پر اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اس کی کم سن بیٹی کھلے مین ہول میں گر گئی ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع ملنے کے صرف چار منٹ کے اندر ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور واٹر ریسکیو اور سکوبا ٹیموں کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سیوریج لائن کی زیادہ گہرائی، پانی کے تیز بہاؤ اور جگہ کے انتہائی تنگ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو شاہد وحید کے مطابق مین ہول میں ڈیڑھ فٹ پانی موجود تھا، جب کہ اس کی گہرائی 10 فٹ سے زیادہ اور سیوریج لائن کا قطر تقریباً تین فٹ تھا۔

ابتدائی طور پر مختلف اداروں اور متاثرہ خاندان کے بیانات میں تضاد پایا گیا، تاہم بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاندان سیر کے لیے آیا تھا۔ وہ مینارِ پاکستان جانے کے بعد داتا دربار پہنچے، جہاں اس دوران خاتون اور بچی سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھیں اور اچانک دونوں نیچے گر گئیں۔

خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں دو افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ جس مقام کی نشاندہی کی گئی تھی، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں واقع ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں پیش آیا، جہاں انتظامیہ نے پہلے ہی کھدائی کر رکھی تھی۔ واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا تھا، تاہم ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔

ابتدائی طور پر لاہور انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا، جب کہ پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی تھی۔

خاتون کی لاش ملنے سے قبل ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ خاتون کے شوہر سے تحقیقات کی گئی تھیں، تاہم تسلی بخش جواب نہ ملنے پر شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، کیونکہ لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے۔ بعد ازاں تمام افراد کو رہا کر دیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق ماں اپنی نو ماہ کی بیٹی کے ہمراہ گری تھی۔ خاتون کی شناخت سعدیہ اور نو ماہ کی بچی کی شناخت ردا کے نام سے ہوئی۔  واقعے کے چند گھنٹوں بعد خاتون کی لاش مل گئی تھی، جب کہ 10 ماہ کی ردا کی لاش تقریباً 18 گھنٹے بعد برآمد ہوئی۔

واقعے کے بعد ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اسے سنگین غفلت قرار دیا اور منصوبے سے وابستہ پوری ٹیم کو معطل کر دیا۔

 معطل کیے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔ اس سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا تھا، تاہم تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے دیگر ذمہ دار افسران کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی تھی، جو 24 گھنٹوں میں تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا تھا، جب کہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا۔

دوسری جانب ڈی جی ایل ڈی اے نے کنٹریکٹر کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرانے کی ہدایت جاری کی اور ان کے حکم پر کنٹریکٹر کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا گیا۔ منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جب کہ اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

مزید برآں ڈی جی ایل ڈی اے کی ہدایت پر نیسپاک کے ریزیڈنٹ انجینئر کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور ان کی معطلی کے ساتھ محکمانہ کارروائی اور انکوائری کی سفارش کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے میں نیسپاک کی ٹیم کے کردار کو بھی باضابطہ طور پر انکوائری کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ واقعے کے تمام ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

اس سے قبل بھاٹی دروازے کے قریب پیش آنے والے اس واقعے پر واسا کے ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ ٹیپا کے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران پیش آیا۔ ترجمان کے مطابق منصوبے پر کام کے سلسلے میں متعلقہ ادارے کی جانب سے مین ہولز کھولے گئے تھے۔

ترجمان نے مزید بتایا تھا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی واسا کے افسران اور عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، جب کہ ایم ڈی واسا غفران احمد خود بھی موقع پر موجود تھے۔

یاد رہے کہ چند ہفتے قبل پنجاب کے ضلع لودھراں میں کھلے مین ہول میں گرنے سے سات سالہ بچہ ریحان جان کی بازی ہار گیا تھا، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔