پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ تابش ہاشمی کے دیے گئے ریمارکس سندھ کے عوام کی توہین اور آئینی و انتظامی امور سے لاعلمی کا واضح ثبوت ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ میزبان تابش ہاشمی نے ایک حساس معاملے پر بغیر مکمل معلومات کے تبصرہ کیا، جس کے باعث عوام میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ایک آئینی صوبہ ہے اور صوبائی حکومت جمہوری ڈھانچے اور قوانین کے تحت کام کرتی ہے۔

شرجیل میمن نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی طرزِ حکمرانی کو مذاق یا غیر سنجیدہ گفتگو کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔ میڈیا پر بیٹھ کر سندھ یا کراچی کو پرائیویٹائز کرنے جیسے بیانات دینا غیر سنجیدگی اور عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی پورے سندھ کا دل ہے اور شہر کے مسائل کا حل سنجیدہ پالیسی سازی، وسائل کی فراہمی اور اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے، نہ کہ ٹی وی شوز میں کی جانے والی سطحی گفتگو سے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے فوری بعد کارروائی عمل میں لائی گئی، جس کے تحت ڈائریکٹر سول ڈیفنس ساؤتھ ڈسٹرکٹ اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرینٹ انچارج کو معطل کر دیا گیا، جب کہ کے ایم سی کے میونسپل کمشنر افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ گروہ اس سانحے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تحقیقات مکمل طور پر شفاف اور عدالتی ہوں گی۔ حکومتِ سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس تحقیقاتی عمل کو عدالتی کمیشن کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی دباؤ کے تحت نہیں کیا گیا اور سچائی کی راہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سانحے کے حقیقی اسباب کی نشاندہی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے اور عوامی مسائل پر تفریح کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ آواز اٹھائے۔

یاد رہے کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد تابش ہاشمی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ جس طرح پی آئی اے کو بیچ دیا گیا ہے، اسی طرح کراچی کو بھی بیچ دیا جائے، ہم کراچی کے باسی اسے خرید لیں گے اور امید ہے کہ ہم آپ سب سے بہتر انداز میں اس شہر کو چلا سکیں گے۔

واضح رہے کہ تابش ہاشمی کے اس بیان کے بعد جہاں سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی، وہیں کئی شہریوں نے ان کے مؤقف کی حمایت بھی کی ہے۔