پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (پی اے ایف ڈی سے) محض سٹیل اور سیمنٹ کی بنی عمارت نہیں بلکہ ایک گیم چینجر ادارہ ہے، جو نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس اتھارٹی کا خواب سابق وزیراعلیٰ اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دیکھا تھا اور آج اس خواب کی تعبیر سامنے آ رہی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف نے ہمیشہ معیار، محنت اور میرٹ پر یقین رکھا اور یہی ان کی اصل وراثت ہے جسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہوں۔ جدید ترین لیبارٹریز بنانے کا مقصد انصاف اور معیار کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی اے ایف ڈی اے کے لیے 42 جدید مشینیں موصول ہو چکی ہیں، جب کہ مزید 565 مشینیں آئیں گی اور اگلے ماہ تک مکمل پراسس مکمل کر لیا جائے گا۔ اس ادارے میں کاسمیٹکس، آرتھوپیڈک امپلانٹس، زمین کی زرخیزی، کھاد، خوراک، ادویات حتیٰ کہ اینیمل فیڈ کی ٹیسٹنگ بھی ممکن ہوگی۔

مریم نواز نے کہا کہ پی اے ایف ڈی اے میں 232 سائنسدان کام کر رہے ہیں جن میں 100 سے زائد گولڈ میڈلسٹ اور 28 پی ایچ ڈی ہولڈرز شامل ہیں، جب کہ سائنسدانوں میں 70 فیصد خواتین ہیں۔ مزید یہ کہ اس ادارے کو امریکی ادارے USAID، سوئس ادارے GAIN اور نیوزی لینڈ کے CABI کی معاونت اور اشتراک بھی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایکسپورٹ بڑھانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے اکثر کنسائنمنٹس واپس آ جاتی ہیں۔ پی اے ایف ڈی اے قومی اور عالمی معیار کا تعین کرے گی تاکہ بہترین اور معیاری اشیاء ایکسپورٹ کی جا سکیں، جب کہ مقامی صارفین کو بھی معیاری خوراک اور ادویات میسر آئیں۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ جو آٹا، چاول یا ادویات ایکسپورٹ کے قابل نہیں، انہیں مقامی سطح پر بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 300 خواتین کے لیے پہلا سائنسٹسٹ ویمن ہاسٹل بھی بنایا جائے گا۔ پنجاب میں ای ٹینڈرنگ، ای پروکیورمنٹ اور ای بزنس کا آغاز ہو چکا ہے اور 23 ہزار سے زائد کاروباری افراد کو آن لائن، فیس لیس اجازت دی جا چکی ہے۔

مریم نواز نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہنگامی واقعے کی صورت میں پولیس سے پہلے ڈرون روانہ کیا جاتا ہے، جب کہ حالیہ دنوں میں ہوٹل میں آگ بجھانے کے آپریشن کی ڈرون کے ذریعے ڈیجیٹل مانیٹرنگ بھی کی گئی۔ مشکل وقت میں خواتین کو تھانے نہیں جانا پڑتا بلکہ 15 پر کال کرنے پر پولیس خود ان تک پہنچتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک، چائلڈ پروٹیکشن اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے مدد لی جا رہی ہے اور اپریل سے پنجاب کے تمام اسکولوں میں اے آئی ایجوکیشن کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ آنے والی نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔