کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے بعض شہروں میں گزشتہ روز سے جو صورتحال پیدا ہوئی، اس کے پیش نظر وہ عوام کو تمام حقائق سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

انہوں نے سب سے پہلے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور حکومت شہداء کے غم میں برابر کی شریک ہے اور شہداء کے بچوں کی کفالت اور فلاح و بہبود ہمیشہ ریاست کی ذمہ داری رہی ہے اور رہے گی۔

انہوں نے غازیوں اور سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، فرنٹیئر کور، نیوی اور دیگر اداروں کے جوانوں نے غیر معمولی بہادری، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت سے اس جنگ کا سامنا کیا۔

وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس پیشگی انٹیلیجنس رپورٹس موجود تھیں جن میں بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ انہی اطلاعات کی بنیاد پر ایک دن قبل ہی پری آپریشنز شروع کر دیے گئے، جن کے دوران شعبان اور مچھ کے علاقوں میں 60 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ مچھ، کوئٹہ کے شمال مشرقی علاقوں اور دیگر حساس مقامات پر مربوط حملے کرنا تھا، تاہم فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث نہ کوئٹہ کے ان علاقوں میں کوئی واقعہ پیش آیا اور نہ ہی مچھ میں دہشت گرد اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔

وزیراعلیٰ نے گوادر میں پیش آنے والے واقعے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ خزدار سے تعلق رکھنے والی ایک بلوچ فیملی، جو لیبر کالونی میں مقیم تھی، دہشت گردوں کا نشانہ بنی۔ خواتین اور بچے زندگی کی بھیک مانگتے رہے، مگر دہشت گردوں نے بے رحمی سے پانچ خواتین اور تین معصوم بچوں کو قتل کر دیا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جو عناصر بلوچیت کا نعرہ لگاتے ہیں، ان کا بلوچ روایات، ثقافت یا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کوئی آزادی کی جنگ نہیں، یہ صرف دہشت کی جنگ ہے۔ دہشت گردوں کی نہ کوئی قوم ہوتی ہے، نہ قبیلہ اور نہ ہی کوئی جینڈر۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی انڈیا کر رہا ہے اور جب بھی پاکستان معاشی یا سفارتی سطح پر آگے بڑھنے لگتا ہے، ایسے واقعات کے ذریعے ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے بشیر زیب ہو یا اللہ نذر اور دیگر عناصر، یہ سب انڈیا کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جن میں پولیس، ایف سی اور ایک نیوی کا جوان شامل ہے، جب کہ 31 شہری بھی جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کو نمایاں طور پر اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس نے فورسز کو بروقت معلومات فراہم کیں۔ دہشت گردوں نے سیف سٹی کیمروں کو بھی نشانہ بنایا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نظام ان کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 30 جون تک ملک کے مزید شہروں میں سیف سٹی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کے سیاسی ڈائیلاگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں، نہ ہی کوئی سماجی خدمت کا ادارہ۔ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ کا مطلب یہ ہے کہ ریاست سرنڈر کرے، تو پاکستان ایک ہزار سال بھی یہ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے مگر سرنڈر نہیں کرے گا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد جدید اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگا، جو اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حالیہ واقعات میں افغان دہشت گردوں کی شمولیت بھی سامنے آئی ہے۔

آخر میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کمزور نہیں، یہ ریاست تھکے گی نہیں۔ ہم دہشت گردوں کو ان کے بلوں سے نکال کر انجام تک پہنچائیں گے۔ سکیورٹی اور ترقی کا ماڈل ساتھ ساتھ چلیں گے اور بلوچستان ان شاء اللہ امن کی طرف لوٹے گا۔