نجی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ 2018 سے قبل ریاست کی پالیسی مصالحت پر مبنی نہیں تھی اور مصالحتی پالیسی اپنانے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دورانِ جنگ ہر طبقۂ فکر کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے بعد سب سے اہم دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے، جس پر سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے موجود تھا۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو عوام کی دو یا تین فیصد سے زیادہ حمایت حاصل نہیں، جب کہ دہشت گرد جب بھی شہروں میں کارروائیاں کرتے ہیں تو عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے ہیں، جب کہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی مجموعی تعداد چار سے پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔
ریاست کے ہارڈ اسٹیٹ بننے کے دعووں اور سرفراز بگٹی کے وزیراعلی بننے کے بعد بلوچستان میں دہشتگرد حملوں میں مسلسل اضافہ کیوں ہورہا ہے؟
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 1, 2026
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کا جواب pic.twitter.com/JTwYry8YVJ
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان حملوں میں شامل دہشت گردوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 بھی نہیں تھی۔
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ شعبان اور پنجگور میں ہونے والے حملوں سے متعلق خفیہ معلومات پہلے سے موجود تھیں۔ ان حملوں میں 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جب کہ نوشکی میں کلیئرنس اور کومبنگ آپریشن تاحال جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عالمی میڈیا سے اپیل کی کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد ہی کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ، گوادر، پنجگور سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملے ناکام بنا دیے گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں خودکش بمباروں سمیت 130 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔







