وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ قازق صدر اپنے دورۂ پاکستان کے دوران صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف سے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

 انہوں نے  اپنے بیان میں کہا کہ صدر قاسم توکایف پاکستان قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے تاجر، سرمایہ کار، کاروباری رہنما اور صنعتی نمائندے شریک ہوں گے۔ بزنس فورم کا مقصد باہمی تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور نجی شعبے کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ قازق صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آئے گا، جس میں سینئر کابینہ اراکین، اعلیٰ سرکاری حکام اور اقتصادی ماہرین شامل ہوں گے۔ دورے کے دوران مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط متوقع ہیں۔

دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر توجہ

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کو دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لینے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ مذاکرات میں تجارت، لاجسٹکس، ٹرانزٹ ٹریڈ، علاقائی رابطہ کاری، عوامی روابط (People-to-People Contacts)، تعلیم، توانائی اور علاقائی و عالمی فورمز پر تعاون جیسے امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے  کہا گیا کہ صدر توکایف کا دورہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں، اور دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کو عملی اور مؤثر تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں ریاستیں خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے وژن پر متفق ہیں۔

وسطی ایشیا سے سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ

ادھر پاکستان کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک کے بڑھتے روابط کے تناظر میں صدرِ ازبکستان شوکت مرزیایوف بھی 5 اور 6 فروری کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ ازبکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی UzA کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کا تسلسل ہے۔

پاکستان اور ازبکستان تجارت دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

UzA کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا بنیادی مقصد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی حجم کو آئندہ برسوں میں 2 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے، جبکہ بات چیت کا مرکزی نکتہ اقتصادی تعاون میں ساختی تبدیلی اور صنعتی شراکت داری ہو گا۔

ازبک وزارتِ سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 5 اور 6 فروری کو اسلام آباد میں ازبکستان پاکستان بزنس فورم اور ’’میڈ اِن ازبکستان‘‘ نمائش کا انعقاد بھی کیا جائے گا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، صنعتی اور سرمایہ کاری تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔

ماہرین کے مطابق قازقستان اور ازبکستان کے صدور کے مسلسل دورے پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی کی حکمتِ عملی اور علاقائی رابطہ کاری کے وژن کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔