کاروباری سیشن کے دوران آٹوموبائل، سیمنٹ، کیمیکل، بینکنگ، فرٹیلائزر، فارماسیوٹیکل، ٹیکنالوجی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں خریداری ہوئی، جس کے باعث مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان خاصا مثبت رہا۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑے اور نمایاں اسٹاکس میں مرکوز رہی، جس نے انڈیکس کو اوپر کی جانب دھکیل دیا۔

دوپہر 12 بجے کے قریب کے ایس ای 100 انڈیکس 186,978 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا، جو گزشتہ کاروباری دن کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق یہ تیزی حالیہ دنوں میں بہتر معاشی اشاریوں اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 883 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 185,057 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس نے منگل کی تیزی کی بنیاد فراہم کی۔

دلچسپ طور پر مارکیٹ نے امریکا اور بھارت کے درمیان طے پانے والے حالیہ تجارتی معاہدے پر کسی منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف 50 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے، جو پاکستان پر عائد 19 فیصد ٹیرف سے ایک فیصد کم ہے، تاہم اس فرق کے باوجود پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے جوہری و حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق نیشنل ایکسپورٹ کنٹرول لسٹس اپ ڈیٹ کر دیں

بین الاقوامی سطح پر بھی منگل کے روز مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی رہی اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد بحالی کی علامت ہے۔

عالمی منڈیوں میں جاپان کا نکی انڈیکس 2.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 4 فیصد تک بڑھ گیا۔ اسی طرح ایشیائی کاروبار کے دوران سونے کی قیمت 3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,800 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی، جو پیر کی کم ترین سطح سے تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے، جبکہ چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کی ایک اہم وجہ امریکی صدر کی جانب سے کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کی قیادت کے لیے نامزد کرنے کا اعلان ہے، جس سے بانڈ ییلڈز میں اضافے اور قیمتی دھاتوں پر دباؤ کے خدشات جنم لے رہے تھے، تاہم اب مارکیٹس میں تدریجی بحالی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مقامی اور عالمی سطح پر مثبت عوامل برقرار رہے تو آئندہ دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔