ینگ لیڈرز پارلیمنٹ کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت معاشی، سیاسی، ادارہ جاتی اور امن و امان کے سنگین بحران سے گزر رہا ہے، ایسے میں نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شعور، جدوجہد اور خودداری کے ساتھ ملک کو درست سمت میں لے جانے میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سیاست میں آنے کا مقصد عہدہ یا اقتدار نہیں بلکہ حقیقی جمہوریت، آئین و قانون کی بالادستی اور امیر و غریب کے لیے یکساں انصاف کا قیام تھا۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں اور ملک و قوم کے لیے جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔

سہیل آفریدی نے پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پی ٹی آئی کے کارکنان کو نہ جلسوں کی اجازت ہے، نہ جھنڈا لہرانے کی، جب کہ خیبرپختونخوا میں ہر سیاسی جماعت کو آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں، خواتین کارکنان اور بزرگ سیاستدانوں کو ناحق قید و بند کا سامنا ہے۔

وزیرِاعلیٰ کےپی نے عمران خان کی اہلیہ اور بہنوں کے ساتھ جیل کے باہر مبینہ بدسلوکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین پر تشدد اور سیاسی انتقام جمہوریت کے منافی ہے،ایسی حرکتیں اخلاقی اور ذہنی پستی کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس کے وسائل دیے جائیں تو صوبہ صحت، تعلیم، یونیورسٹیز، ٹیکنیکل ایجوکیشن، انڈسٹری، معدنیات اور روزگار کے میدان میں انقلاب لا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شیطان نہیں ہوں، پاکستان اور انڈیا میں پولیو مہم کو فنڈز دیے تھے، جیفری ایپسٹین کا دعویٰ

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کو مکمل مالی حقوق مل جائیں تو صحت کارڈ کی رقم دوگنی، مزید اسپتال، یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ گزشتہ کئی دہائیوں سے خیبرپختونخوا اور پختونوں کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے، مگر اب نوجوان اس سوچ کو شکست دیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے دہشت گردی کو ختم نہیں کرتے بلکہ اسے بڑھاتے ہیں، اس کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو مل کر طویل المدتی قومی پالیسی بنانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آواز اٹھانا جنازے اٹھانے سے بہتر ہے، اگر عوام خاموش رہے تو ایک بار پھر دہشت گردی اور جبر مسلط کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ مسلسل سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور صوبے کو اس کا آئینی اور مالی حق نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے باوجود این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو واجب الادا 4 ہزار 758 ارب روپے تاحال نہیں ملے، جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سہیل آفریدی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہی پھیلائیں، آئینی جدوجہد کریں اور ہر فورم پر صوبے کا مقدمہ اٹھائیں۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی، یوتھ پالیسی کو مزید بہتر بنایا جائے گا، بلا سود قرضوں، تعلیم اور روزگار کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے اور خیبرپختونخوا کو حقیقی معنوں میں خودمختار اور خوشحال صوبہ بنایا جائے گا۔