نجف حمید کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کی۔ سماعت کے دوران نجف حمید اپنے وکلاء بیرسٹر قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ اسپیشل جج سینٹرل کی جانب سے نجف حمید کی ضمانت منسوخی کے فیصلے کو معطل کیا جائے اور ضمانت بحال کی جائے۔ وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ایک قانون پسند شہری ہیں اور انہیں بدنیتی کی بنیاد پر ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔

اس موقع پر جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، پہلے تمام متعلقہ فریقین کے جوابات آ جانے دیں، اس کے بعد ہی کسی عبوری ریلیف پر غور کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے پر تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

نجف حمید نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے درج فراڈ کے مقدمے میں اپنی ضمانت منسوخی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست گزار نے اسپیشل جج سینٹرل کے 24 جنوری کو سنائے گئے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے، جس کے تحت ایف آئی اے کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی گئی تھی۔
مزید جانیں: بشریٰ بی بی نے بتایا ڈاکٹروں نے پروسیجر تجویز کیا ورنہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ تھا، بیرسٹرگوہر

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔ نجف حمید کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں اور ضمانت منسوخی کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسپیشل جج سینٹرل کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر نجف حمید کی ضمانت قبل از گرفتاری بحال کی جائے۔ اس کیس میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔