اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ اس خودکش حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی شہید ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واقعے میں 31 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق دھماکے کے صرف 12 منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچنا شروع ہو گئی تھیں، جب کہ اسلام آباد کے تمام بڑے ہسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے دوران مذہب اور لسانی بنیادوں پر آسان اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول بوکھلاہٹ کا شکار دہشت گرد مساجد، امام بارگاہوں اور بازاروں جیسے مقامات کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو سرپرائز دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے برعکس انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ مئی میں انڈیا کے ساتھ جو کچھ ہوا، اسی طرز کا انجام اس کی ’پراکسیز‘ کا بھی ہو گا۔