حکام کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور ممکنہ خطرات کے سدباب کے لیے خصوصی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے اہلِ خانہ اور سہولت کاروں کے خلاف اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اہم سہولت کار کو نوشہرہ میں کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا، جبکہ سب سے بڑی پیش رفت کے طور پر بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر میں واقع گھر سے گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے ممکنہ نیٹ ورک کو توڑنے اور دیگر ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے میں 31 افراد شہید جبکہ 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔