ہفتے کے روز پمز اسپتال کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ زیرِ علاج 21 سالہ ایک زخمی نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد پمز میں اموات کی تعداد 29 ہو گئی، جبکہ پولی کلینک میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس طرح مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز پمز میں 28 لاشیں لائی گئی تھیں جبکہ 4 لاشیں پولی کلینک منتقل کی گئی تھیں۔ واقعے میں مجموعی طور پر 169 افراد زخمی ہوئے تھے۔
ترجمان پمز کے مطابق اس وقت اسپتال میں 65 زخمی زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 9 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 26 سالہ خودکش حملہ آور یاسر تقریباً ڈیڑھ سال قبل گھر سے لاپتہ ہو گیا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ اس دوران کبھی کبھار فون پر رابطہ کرتا رہا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل یاسر نے امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ کی ریکی کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ نوشہرہ سے خودکش جیکٹ پہن کر روانہ ہوا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسلام آباد پہنچا۔
امام بارگاہ جانے سے قبل یاسر قریبی ایک ہوٹل میں مختصر قیام کے بعد کھنہ روڈ سے پیدل چلتے ہوئے امام بارگاہ پہنچا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ آور افغانستان بھی آتا جاتا رہا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملہ آور سے قریبی تعلق رکھنے والے چار افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، جن میں سہولت کار اور معاونین شامل ہیں۔
دوسری جانب ترلائی میں آج 13 جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ ان میں ایک 6 سالہ بچہ اور ایک ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کا نام سید عباس مہدی تھا اور ان کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق دھماکے میں ملوث دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے کی گئی ہے، جس کا سر اور شناختی کارڈ جائے وقوعہ سے برآمد ہوئے تھے۔
دھماکے کے وقت امام بارگاہ میں موجود 52 سالہ محمد کاظم نے پمز اسپتال میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جماعت کے دوران جیسے ہی وہ رکوع میں گئے تو پہلے فائرنگ کی آواز سنائی دی اور اس کے فوراً بعد زور دار دھماکہ ہوا۔
محمد کاظم کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ وہ دھماکے میں محفوظ رہے اور ایک زخمی ساتھی کے ہمراہ پمز پہنچے۔ ان کے مطابق وہ تقریباً ایک بجے امام بارگاہ پہنچے اور امام کے پیچھے ساتویں یا آٹھویں صف میں کھڑے تھے۔ رکوع کے دوران دھماکے سے در و دیوار لرز گئے اور چھت سے ملبہ ان پر آ گرا۔
ان کا کہنا تھا کہ باہر نکلے تو صحن میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور منظر انتہائی خوفناک تھا۔
اسی طرح ایک اور عینی شاہد عمران محمود نے بتایا کہ خودکش حملہ آور اور ممکنہ ساتھیوں کے درمیان رضاکار سکیورٹی اہلکاروں سے فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ ان کے مطابق حملہ آور آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک زخمی رضاکار نے پیچھے سے فائرنگ کی، جس سے حملہ آور کی ران میں گولیاں لگیں۔ وہ گر پڑا مگر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا، اسی دوران اس کے ساتھی نے رضاکار پر فائرنگ کی اور حملہ آور گیٹ کے اندر داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت میں ہونے والا دوسرا مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2008 میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل پر خودکش ٹرک بم حملے میں 60 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
محمد کاظم کے مطابق دھماکے کے بعد بچ جانے والے افراد نے زخمیوں کی مدد کی۔ لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں لاشوں اور زخمیوں کو ڈال کر ہسپتال منتقل کیا، جبکہ ایمبولینسز 20 سے 25 منٹ بعد موقع پر پہنچیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ تین سے چار ہفتوں سے اسی امام بارگاہ میں نماز ادا کر رہے تھے، مگر وہاں سکیورٹی انتظامات انتہائی کمزور تھے۔ رضاکار اپنی مدد آپ کے تحت سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کے پاس ضروری آلات کی بھی کمی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش حملہ آور کا تعلق داعش سے تھا۔







