مریم نواز سے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ انہوں نے عالمی بینک کے صدر اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
ملاقات میں صحت، تعلیم، اپنی چھت، اپنا گھر، ستھرا پنجاب اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ورلڈ بینک اور حکومت پنجاب کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ پنجاب حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2026-2035 کو پنجاب کے لیے نہایت اہم اور اسٹریٹجک قرار دیا۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے فلاحی منصوبوں کو سراہتے ہوئے صوبے میں جاری اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کی۔
ملاقات میں پنجاب کے ترجیحی شعبوں میں تعاون اور عالمی بینک کے تعاون سے چلنے والے مختلف پروگرامز پر بھی غور کیا گیا۔
دونوں جانب سے مستقبل میں موسمیاتی لچک، ڈیجیٹل گورننس اور جامع ترقی کے لیے تعاون اور سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور ان شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا وژن ایک قابلِ رہائش سیارے پر غربت سے پاک دنیا پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ورلڈ بینک کے ساتھ مالی استحکام اور قابلِ عمل کاروباری ماڈلز کے تحت مستقبل کے منصوبوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے مسلسل تعاون چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی کال پر جزوی ہڑتال: پنجاب بھر میں خاموشی، لاہور میں بسنت نے احتجاج کی ’ڈور‘ کاٹ دی
وزیراعلیٰ پنجاب نے نشاندہی کی کہ پنجاب، پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا اور معاشی طور پر اہم صوبہ ہونے کے باعث موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، جیسے سیلاب اور فضائی آلودگی، سے شدید متاثر ہے۔ حکومت پنجاب ’کنیکٹڈ پنجاب پروگرام‘ تیار کر رہی ہے، جسے ورلڈ بینک فنڈ کرے گا۔
انہوں نے ورلڈ بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک کو علاقائی منصوبہ بندی، شواہد پر مبنی حکمتِ عملی کی تشکیل اور پبلک سیکٹر میں تبدیلی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جہاں 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر جب کہ 29 فیصد آبادی 18 سے 29 سال کے درمیان ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے نہ صرف صوبے میں آئی ٹی انفراسٹرکچر بہتر ہوگا بلکہ معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ پنجاب حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں، گورننس اور زراعت میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات متعارف کروا چکی ہے۔







